چینی صدر امریکہ کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہُو جِنتاؤ امریکہ کے دورے پر واشنگٹن پہنچے ہیں جہاں انہوں نے ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ کی فیکٹری کا دورہ کیا ہے۔ ہُو جنتاؤ جمعرات کو امریکی صدر جارج بش سے اہم اقتصادی اور سیاسی امور پر مذاکرات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے ایجنڈے پر امریکہ۔چین تعلقات اہم ہیں۔ بوئنگ کی فیکٹری کا ان کا دورہ اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ چند دن قبل ہی چین نے بوئنگ کمپنی سے 70 جہاز خریدنے کا آرڈر دیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان باہمی تجارت سے امریکہ کو گزشتہ سال 202 بلین ڈالر کا خسارہ رہا تھا۔ چینی صدر منگل کے روز امریکی شہر سیاٹل پہنچے تھے۔ اپنے چار روزہ دورے کے دوران وہ امریکی تجارتی اداروں کے رہنماؤں سے متعدد مذاکرات کرنے والے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ چین کے ساتھ تجارت میں امریکی خسارے کے بارے میں امریکی تشویش کا جواب دے سکیں۔ منگل کے روز ہُو جنتاؤ نے ریڈمنڈ میں مائکروسافٹ کے دفتر کا دورہ کیا ہے اور شام کا ڈِنر مائکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس کے ساتھ لیا۔ چینی رہنما نے امریکی ریاست واشنگٹن کے گورنر کرِس گریگوائر کو بتایا کہ انہوں نے سیاٹل کا دورہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ریاست واشنگٹن کے چین کے ساتھ ’بہت اچھے‘ تعلقات ہیں۔ سیاٹل کے بعد بدھ کے روز انہوں نے بوئنگ کا دورہ کیا۔ امریکہ نے تجارتی خسارے کے لیے چینی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اپنی کرنسی کی قیمت کو دانستہ طور پر کم رکھتا ہے تاکہ اپنی برآمدات بہتر کرسکے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اپنی کرنسی یووان کو مارکیٹ کے اصولوں پر چھوڑ دے۔ چین کی جانب سے یووان کی قیمت کو مارکیٹ کے اصولوں پر نہ لانے کی صورت میں کئی امریکی سیاست دانوں نے چین کے خلاف سخت اقدامات کی بات کی ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے چینی کپڑوں کی درآمد پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ | اسی بارے میں ’یوان کی قیمت نہیں بدلیں گے‘26 June, 2005 | آس پاس بیجنگ نیوز کے صحافیوں کا احتجاج31 December, 2005 | آس پاس چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس امریکہ اپنے گریبان میں جھانکے: چین09 March, 2006 | آس پاس چین کےغریب دیہاتی کی ترقی 05 March, 2006 | آس پاس چین اور آسٹریلیا میں یورینیم معاہدہ 03 April, 2006 | آس پاس چین ترقی کی رفتار سے پریشان 16 April, 2006 | آس پاس گوگل چین میں سینسر پر راضی25 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||