BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبت میں ماؤ کا عظیم مجسمہ
مجسمہ
ماؤ کو اب بھی بہت سےلوگ جدید چین کا بانی تصور کرتے ہیں
چین کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ تبت میں سابق چینی رہنما ماؤ زے تُنگ کا عظیم مجسمہ نصب کررہے ہیں۔

سابق چینی رہنما کی تیسویں برسی کے موقع پر تبت میں 35 ٹن وزنی یادگار تعمیر کی جارہی ہے۔

سات میٹر اونچا یہ مجسمہ پانچ میٹر اونچے پائیدان کے اوپر نصب کیا جائے گا اور اس میں زلزلوں کے جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ خیال ہے کہ جون تک اس یادگار کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔

ماؤ زےتُنگ نے 1950 میں چینی فوج کو تبت پر قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

بیجنگ کے حکام کے مطابق یہ مجسمہ چین کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا۔ اس عظیم الشان تعمیر کے لیئے ماؤ زے تُنگ کے آبائی شہر کے افراد نے ساڑھے چھ ملین ین کا عطیہ دیا ہے۔

چین میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل گرفتھ کا کہنا ہے کہ تبت کے افراد کی جانب سے اس مجسمے کے بارے میں ملے جلے رد عمل کی توقع ہے۔

بیجنگ کا موقف ہے کہ تبت کا علاقہ صدیوں سے چین کا حصہ ہے۔ تاہم بہت سے افراد چینی حکومت کو قابض فوج تصور کرتے ہیں جنہوں نے تبت کی ثقافت اور انسانیت کا احترام نہیں کیا۔

1950 ہی میں تبت چین کا حصہ بنا اور چینی فوج نے اس سرزمین پر قدم رکھا۔ جس کے بعد علاقے میں چینی فوج کے خلاف ناکام بغاوت کے نتیجے میں تبت کے روحانی پیشوا ڈلائی لاما اپنے ہزاروں ماننے والوں کے ساتھ یہاں سے علاقہ بدر ہوگئے۔ تب ہی سے علاقے پر چین کا قبضہ ہے۔

ماؤ زے تُنگ کا مجسمہ اس علاقے پر بیجنگ کے اثرات کی یاد تازہ کردے گا۔

اسی بارے میں
چین کاعروج: اقتصادی اثرات
09 April, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد