BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبتی ’کشمیر کی آزادی‘ کے خواہاں

تبتی مہاجر محمد عبداللہ
مؤرخین کا کہنا ہے کہ تبت میں مسلم آبادکاروں کا دخل بارہویں صدی کے آس پاس شروع ہوا
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ پچاس سال سے آباد تبتی نژاد مسلم کُنبے تبت کے مقابلے ’کشمیر کی آزادی‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔

تاہم مخصوص کالونیوں میں مقیم یہ باشندے تبت میں جاری تشدد کے حوالے سے وہاں کی مسلم آبادی کے بارے میں متفکر ہیں۔

معمر تبتی کشمیری محمد عزیزاللہ سری نگر کے ’مزارِ شہداء‘ سے متصل تبتی کالونی میں مقیم ہیں۔

تبّت میں جاری فساد کے دوارن مسلم املاک کو پہنچے نقصان پر مسٹر عزیزاللہ کو افسوس ہے۔ تاہم وہ ہندوستان میں جلاوطن تبتی رہنما دلائی لاما کے اس بیان سے اتفاق رکھتے ہیں جس میں انہوں نے تبت میں پولیس اور فوج کی کارروائی کو’دہشت گردی‘ قرار دیا۔

عزیزاللہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ تو پچاس سال پہلے وہ علاقہ چھوڑ آئے، کیونکہ چینی حکومت نے مسلمانوں پر ظلم کیا۔ مذہب پر پابندی لگائی گئی ، مسجدیں بند کی گئیں،اور جاتے جاتے بھی ہم سے بھاری ٹیکس وصول کیا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ کشمیری سماج اور تمدن کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئے لیکن حکومت سے انہیں شکایت ہے کہ ان کی بحالی اور بازآبادکاری کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

تبت کی تحریک آزادی سے متعلق عزیزاللہ کا خیال ہے کہ’تبت آزاد ہوگا تو ہمیں کیا ملے گا، ہم نے کشمیریوں کی آزادی کی حمایت کی ہے۔ ہم تو چاہیں گے کہ کشمیر ہی آزاد ہوجائے۔‘

کشمیر ہی آزاد ہو
 تبت آزاد ہوگا تو ہمیں کیا ملے گا، ہم نے کشمیریوں کی آزادی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم تو چاہیں گے کہ کشمیر ہی آزاد ہوجائے۔
عزیز اللہ

یہ پوچھنے پر کہ اگر پہلے تبت آزاد ہوجائے تو وہ کیا کرینگے، ایک اور تبنی شہری محمد عبداللہ کا کہنا ہے ’ہم تو کشمیر میں ہی رہنا پسند کریں گے، لیکن ہم فی الوقت سیکنڈ سٹیزن ہیں، ہمارا راشن کارڈ بھی عارضی ہے، اور ہم کبھی تبت جانا چاہیں تو کافی دشواری ہوتی ہے۔‘

مؤرخین کا کہنا ہے کہ تبت میں مسلم آبادکاروں کا دخل بارہویں صدی کے آس پاس شروع ہوا۔

تاریخ کے ایک محقق جاوید نقیب کہتے ہیں’تبت چونکہ کشمیر اور ترکستان کے قریب تھا، لہٰذا لہاسہ اور کشمیر کے درمیان تجارتی اور سماجی تعلقات پیدا ہوگئے۔ تبتی زبان میں مسلمانوں کو ’کاشیول‘ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تبت میں زیادہ اسلام کا دخل کشمیر خطہ سے ہی ہوا۔‘

کشمیر میں فی الوقت کئی مقامات پر حکومت نے جدید طرز کی سرائیں تعمیر کی ہیں، جن میں تبتی نژاد کشمیری کنبے رہائش پزیر ہیں۔

ان کالونیوں میں مساجد اور سکول بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ اکثر تبتی کشمیری کشیدہ کاری اور دیگر دستکاریوں سے روزگار کماتے ہیں تاہم ایک مخصوص تعداد سرکاری ملازمت میں بھی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد