BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبتی مظاہرین عدالتی تحویل میں

تیبتن مہاجرین
گزشتہ پچاس برسوں سے تبتی چین سے آزدی کی جدوجہد کر رہے ہیں
بھارت میں جمعرات کو گرفتار کیے جانے والے ایک سو سے زائد تبتی پناہ گزینوں کو چودہ دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گيا ہے۔

یہ افراد چین میں اولمپکس کے انعقاد کے خلاف احتجاج کے طور پر چینی سرحد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ احتجاجی مارچ ’عالمی آزادی تحریک‘ کا حصہ تھا۔

تحویل میں بھیجے جانے سے قبل ان افراد کو دہرہ میں سینئر ڈیوزنل میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

تبتی پناہ گرزینوں کی طرف سے جاری کیے گئے ایک پریس رلیز کے مطابق مظاہرین نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگلے چھ مہینے تک وہ مزید کسی احتجاجی مظاہرے میں شریک نہیں ہوں گے۔

گرفتار کیے گئے سو افراد کو دھرم شالہ علاقے سے 53 کلومیٹر دور واقع جوالہ مکھی کے یاتری نواس میں نظر بند کیا گیا ہے۔ یہ مقام ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس ہے۔

ان افراد کو جمعرات کو دھرمشالہ شہر سے اکتیس میل دور دہرہ پل کے قریب گرفتار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ دھرم شالہ دلائی لامہ کی قیادت میں جلاوطن تبتی حکومت کا مرکز ہے۔

یہ مارچ انچاس سال قبل دلائی لامہ کی چین میں ناکام بغاوت اور وہاں سے فرار ہونے کے واقعہ سے مماثلت رکھتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی امریکی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے چین، ہندوستان اور نیپال کی حکومتوں سے گرفتار تبتیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد تبت میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ تبتی پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ انہیں واپس تبت لوٹنے کا حق ملنا چاہیے۔

جیسے جیسے چین میں منعقد ہونے والی اولمپک گیمز کی تاریخ قریب آرہی ہے، تبتی پناہ گزینوں نے تبت میں چینی اقتدار کے خلاف ایک مہم شروع کر دی ہے۔

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں پیر کے روز تقریباً ایک ہزار تبتی پناہ گزینوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ یہ مظاہرین چینی سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ماضی میں ہندوستان اس قسم کے مظاہروں کو نہیں روکتا تھا لیکن کچھ سالوں سےاس نے ان مظاہروں کو روکنا شروع کر دیا ہے۔

بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مارچ ہندوستان کی حکومت اور جلا وطنی میں قائم تبتی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد