 | | | دلائی لاما کو کانگریسنل گولڈ میڈل دیا گیا |
بدھ مت کے روحانی رہنما دلائی لامہ کو ایک اہم امریکی اعزاز دیے جانے پر چین نے بیجنگ میں امریکی سفیر کو بلا کر شدید احتجاج کیا ہے۔ چینی حکومت نے کہا ہے کہ دلائی لامہ کو کانگریسنل گولڈ میڈل دے کر امریکہ نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’شدت سے نقصان‘ پہنچایا ہے۔ جلاوطن بدھ رہنما دلائی لامہ انیس سو انسٹھ میں چینی اقتدار کے خلاف تبت میں ناکام بغاوت کے بعد سے ہندوستان میں رہتے رہے ہیں۔ دلائی لامہ نے واشنگٹن میں بدھ کے روز صدر جارج بش سے ایک تقریب کے دوران امریکی کانگریس کا سب سے اہم شہری اعزاز کانگریسنل گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس موقع پر صدر بش نے دلائی لامہ کو ’رواداری اور امن کی بین الاقوامی علامت‘ قرار دیا اور چین سے اپیل کی کہ ان سے مذاکرات شروع کرے۔ چین کا کہنا ہے کہ دلائی لاما تبت کی آزادی کا مطالبہ کرکے چین کے اقتدار اعلیٰ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ دلائی لامہ کو اعزاز دینے کا وقت کافی حساس ہے کیونکہ چین میں کمیونسٹ پارٹی کانگریس منعقد کیا گیا ہے جو پانچ برسوں میں صرف ایک بار ہوتا ہے۔ اس کانگریس میں چین اپنے مستقبل کی پالیسیوں کا بارے میں اعلانات کرتا ہے اور سینیئر رہنماؤں کا انتخاب بھی ہوتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیو جیانچاؤ نے کہا کہ اعزاز دینے کا فیصلہ امریکہ کی جانب سے چین کے داخلی امور میں کھلی مداخلت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں امریکی سفیر ٹی رینڈٹ کو بلاکر ’سخت احتجاج‘ کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے اپیل کی کہ وہ چین۔امریکہ تعلقات کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ امریکی سیاست دان اکثر ہی الزام لگاتے رہے ہیں کہ چینی حکومت برما اور سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب آنکھ بند کیے ہوئے ہے۔ حال ہی میں دنیا کے کئی رہنما تبت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی آواز اٹھانے لگے ہیں۔ گزشتہ ستمبر جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل نے دلائی لامہ سے ملاقات کی تھی جس پر چینی حکومت نے شدید احتجاج کیا تھا۔ گزشتہ سال کینیڈا نے دلائی لامہ کو اعزازی شہریت دی تھی جس پر چین نے احتجاج کیا تھا جبکہ آسٹریلیا اور آسٹریا کے رہنماؤں نے بھی دلائی لامہ کی حمایت کی ہے۔ |