BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 September, 2007, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: خوشحالی کی بہت بڑی قیمت

وُو لیہانگ نے اپنی زندگی جھیل تائی کو بچانے کے لئے وقف کر دی ہے
آپ چین کے شہر ژیزنگ کا ایک چکر لگا لیں تو جہاں آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس ملک کی حیرت انگیز تیز ترقی کی وجہ کیا ہے وہیں یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ اس ملک کے ماحولیاتی مسائل اتنے گھمبیر کیوں ہیں۔

چینیوں کی اکثریت کی خواہش ہو گی کہ سرسبز درختوں اور چھوٹے چھوٹے دریاؤں کی سرزمین ژیزنگ ان کا آبائی شہر ہوتا تو کتنا اچھا تھا۔

زبردست ترقی کرتی ہوئی معیشت کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے مقامی لوگوں کو اپنے ہی شہر میں بڑی بڑی تنخواہوں والی نوکریاں مل سکتی ہیں اور انہیں اپنے دوستوں اور خاندان سے ہزاروں میل دور نہیں جانا پڑتا۔

دیگر چینی شہروں کی آبادی کے مقابلے میں ژیزنگ ایک چھوٹا شہر ہے کیونکہ یہاں کی آبادی صرف بیس لاکھ ہے، لیکن اس چھوٹی آبادی کے شہر میں کپڑا اور کیمیلز بنانے کی ایک ہزار فیکٹریاں ہیں۔

جس قسم کے نجی کاروبار ژیزنگ میں قائم ہیں اسی قسم کے کاروباروں کی زبردست کامیابی نے ہی دراصل صرف دو عشروں میں چین کی معیشت کو چار گنا کر دیا ہے۔

لیکن ژیزنگ کو اس خوشحالی کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

شہر کی ہوا کیمیائی مادوں کی بدبو سے بھر چکی ہے۔

 چین میں ماحول کو آلودہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ سزا صرف دس لاکھ ین (تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار پونڈ) کا جرمانہ ہے جو کہ مالی فائدے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے

شہر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے اس کے ارد گرد بہتے دریا اب کوڑے پھینکنے کی جگہ بن چکے ہیں۔ زیادہ تر فیکٹریاں دراصل دریا پر ہی بنائی گئی ہیں کیونکہ خام مال فیکٹریوں تک لانے کے لئے آسان ترین ذریعہ یہی دریا ہیں لیکن اب یہ دریا فاسد مادے پھینکنے کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی معیشت کے اعدادو شمار بالکل واضح ہیں۔نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور سے منسلک ایک محقق چین گینگ نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’چین میں ماحول کو آلودہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ سزا صرف دس لاکھ ین (تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار پونڈ) کا جرمانہ ہے۔ اس کا موازنہ آپ صنعتی کچرے کو ختم کرنے والے (ویسٹ ڈسپوزل) پلانٹ سے کریں جو لاکھوں پونڈ کا آتا ہے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ جرمانہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔‘

ژیزنگ کی فیکٹریوں سے نکلنے والے صنعتی فضلے کے ایک بڑے حصے کو دریاؤں میں پھینکنے سے پہلے کسی کیمیائی عمل سے نہیں گزارا جاتا

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ژیزنگ کی فیکٹریوں سے نکلنے والے صنعتی فضلے کے ایک بڑے حصے کو دریاؤں میں پھینکنے سے پہلے کسی کیمیائی عمل سے نہیں گزارا جاتا۔ یہ دریا آگے جا کر چین کی تازہ پانی کی تیسری بڑی جھیل، جھیل تائی، میں گر جاتے ہیں۔

چین کے دو صوبوں کے درمیان واقع جھیل تائی کا رقبہ سنگاپور کے کل رقبے کا تین گنا ہے اور اس کے کنارے ہزاروں فیکٹریاں ہیں۔

جھیل تائی اتنی آلودہ ہو چکی ہے کہ اس سال موسم گرما میں وہاں سبزی مائل نیلی کائی اُگ پڑی۔ اگرچہ ایسی کائی ہر سال اگتی ہے لیکن اس مرتبہ یہ کائی اتنی بُری تھی تھی کہ جھیل کے کنارے واقع ایک صنعتی شہر کے مکینوں کو نلکے کا پانی نصیب نہیں ہوا۔

ماضی کے کسان اور آج کے وُو لیہانگ چین کے ایک ایسے شہری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی جھیل تائی کو بچانے کے لئے وقف کر دی ہے۔یہ انتیس سالہ شخص شاید ژیزنگ کا سب سے مشہور سپوت ہے۔

سنہ دو ہزار پانچ میں وُو لیہانگ کا نام اس وقت شہ سرخیوں میں آیا تھا جب انہوں نے جھیل کو آلودہ کرنے والوں پر سخت تنقید کی تھی۔ لیکن اس وقت کے قومی ہیرو اب ایک جیل میں ہیں جہاں وہ تین سال قید کی سزا مکمل کر رہے ہیں۔

انہیں اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی کہ انہوں نے فیکٹری مالکان کو بلیک میل کیا ہے، تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وُو لیہانگ کا اصل قصور یہ تھا کہ انہوں نے فیکٹری مالکان کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

تھانے کی طرف سے بھیجے ہوئے چار محافظ ان پر مامور ہیں جن کی ذمہ داری وُو لیہانگ کی اہلیہ کی ہر حرکت پر نظر رکھنا ہے

اب ان کی انتیس سالہ اہلیہ، زو زیہوہا، وُو لیہانگ کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم پولیس ان پر بھی چوبیس گھنٹے نظر رکھتی ہے۔

ژیزنگ تھانے کی طرف سے بھیجے ہوئے چار محافظ ان پر مامور ہیں جو آٹھ آٹھ گھنٹوں کی شفٹ میں کام کرتے ہیں اور اور انکی ذمہ داری مسز وُو کی ہر حرکت پر نظر رکھنا ہے۔

ایک اخباری نمائندے کو اپنےگھر کی سیر کراتے ہوئے مسز وُو نے ایک تحفہ دکھایا جو ایک رسی پر لٹکے تین بندروں پر مشتمل تھا۔ ایک بندر نے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھے ہوئے ہیں، دوسرے نے کانوں پر جبکہ تیسرے نے اپنے منہ پر۔

اس کے بارے میں مسزوُو کا کہنا تھا: ’ یہ تحفہ میں نے اپنے شوہر کے لئے اس کی سالگرہ پر خریدا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ کہ کاش ہم ان بندروں کی طرح ہوتے کہ نہ دیکھ سکتے، نہ سن سکتے اور نہ ہی کچھ کہہ پاتے۔ لیکن میرا شوہر بہت ہٹ دھرم ہے۔‘

مسز وُو اپنے شوہر کو مجرم قرار دیے جانے کے خلاف اپیل کریں گی لیکن انہیں خدشہ ہے کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا اور ان کے شوہر اپنی سزا پوری کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود مز وُو کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اس لحاظ سے فتح ان کی ہوئی ہے۔

ادھر چین کے مرکزی رہنماؤں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جھیل تائی کی آلودگی کے مسئلے کو حل کریں گے اور لگتا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے رہنما بھی ایسا کرنے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ رہنما لی یانچاؤ نے کہا ہے کہ وہ جھیل کی صفائی کے لئے معاشی فائدے کی قربانی دینے کا وعدہ کرتے ہیں اور وہ دو ہزارآٹھ کے آخر تک جھیل کو آلودہ کرنے والی دو ہزار فیکٹریوں کو بند کر دیں گے۔

یہ وعدے اپنی جگہ لیکن زیادہ تر ماہرین پرامید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان بہت طاقت رکھتے ہیں اور آلودگی پر قابو پانے کے قوانین پر عمل درآمد بہت مشکل ہے کیونکہ مقامی عہدیداروں کے مالی مفادات علاقے کی تیز ترقی کرتی ہوئی معیشت سے جُڑے ہوئے ہیں۔

ترقی اور ماحول
چین میں ہرہفتے میں دو کارخانے
آلودگیچِین کا منصوبہ
معاشی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی ساتھ ساتھ
G-8 متفق نہیں
ماحولیات پر ترقی یافتہ ممالک میں عدم اتفاق
آلودگی بڑھاتی صنعتیںآلودہ ترین شہر
دس آلودہ مقامات میں سے ایک انڈیا میں: تنظیم
ایس ایم ایس افواہ
چینی کسانوں، تاجروں کو بھاری مالی نقصان
پگھلتی برفماحولیاتی تبدیلی
سب سے زیادہ اثر غریبوں پر ہوگا
آلودگی اور کار
فضا میں آلودگی، یورپی قوانین اور آپ کی کار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد