ترقی یافتہ ممالک، ماحول پرعدم اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لگتا ہے کہ امریکہ نے جرمنی کی ان تجاویز کو رد کر دیا ہے جن میں جی ایٹ گروپ کے رکن ممالک سے ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے خلاف اقدامات پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق امریکہ جون میں جرمنی میں ہونے والی جی ایٹ سربراہ کانفرنس کے لیے تیار کردہ مسودے میں بڑی تبدیلیاں چاہتا ہے بلکہ اسے ان پر ’بنیادی اختلافات‘ ہیں۔ لیکن جرمنی چاہتا ہے کہ تمام رکن ممالک مضر گیسوں کے اخراج میں واضح کمی کرنے کے لیے ایک نظام الاوقات پر متفق ہو جائیں۔ ماحول کے بچاؤ کی بین الاقوامی تنظیم ’گرین پِیس‘ کے ہاتھ لگنے والی ان خفیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی امریکہ کو اپنا مؤقف بدلنے کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مذکورہ دستاویز میں امریکہ نے جرمنی کی مجوزہ سفارشات میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ مسودے پر سرخ روشنائی میں امریکی مذاکرات کاروں نے لکھا ہے کہ انہیں سخت مایوسی ہے کہ مسودے میں امریکہ کے ان اعتراضات کو شامل نہیں کیا گیا جن سے وہ جی ایٹ ممالک کے سفارتکاروں کو پہلے آگاہ کر چکا ہے۔ایک جگہ لکھا ہے ’ امریکہ کو اب بھی اِس مسودے پر بنیادی نوعیت کے تحفظات ہیں۔ ہم نے کوشش کی کہ ہم تجاویز اپنانے میں نرمی دکھائیں لیکن جرمنی کی تجاویز سے اپنی بنیادی مخالفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس سے آگے نہیں جا سکتے۔‘ تاہم دوسری جانب واشنگٹن سے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ کانگریس کے سینیئر ارکان نے صدر بش کو لکھا ہے کہ وہ ماحولیات کے سلسلے میں موجودہ امریکی انتظامیہ کے مؤقف سے مایوس ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تجاویز کے مسودے پر جاری لے دے سے لگتا ہے کہ چھ تا آٹھ جون کی سربراہ کانفرنس کے دوران ان پراتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے خاصی جد وجہد ہو گی۔ جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کی خواہش ہے کہ جی ایٹ کی صدارت کے دوران ان کا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں جی ایٹ ممالک کو بڑے اقدامات کے لیے رضامند کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ ان اقدامات میں درج ذیل شامل ہیں:
گرین پیس کے ڈائریکٹر جان ساون نے جرمنی کی تجاویز پر امریکی رویہ کو ’مجرمانہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ امریکی انتظامیہ عالمی سطح پر وجود میں آنے والے سائنسی اتفاق رائے اور خود امریکہ میں آب و ہوا میں تبدیلی پر بڑھتی ہوئی فکرمندی، دونوں کو واضح طور پر رد کر رہا ہے۔‘
ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ چانسلر مسز مرکل کو کانفرنس کے موقع پر یہ بات واضح کر دینی چاہیئے کہ ماحول کے مسئلے پر جو مؤقف امریکہ نے اپنایا ہے باقی ممالک اس متفق نہیں ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو ٹونی بلیئر نے اشارہ دیا تھا کہ ہو سکتا کہ امریکہ ماحول سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے سنہ دو ہزار ایک کے کیوٹو معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں جس میں سنہ دو ہزار بارہ تک کاربن اور دوسری مضرگیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف پر اتفاق ہوا تھا۔ جمعرات کو ٹونی بلییر نے کہا تھا ’ میرا خیال نہیں کہ امریکہ کے اگلے صدارتی انتخابات میں ایسے کئی افراد حصہ لیں گے جن کے منصوبوں کا حصہ ماحولیاتی تبدیلی نہیں ہوگا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’میرا خیال ہے یہ ممکن ہے کہ ہمیں جی ایٹ کانفرنس کے موقع پر کچھ قدامات دیکھنے کو ملیں، اور اگر اقدامات نہیں تو کم سے کم ان کا آغاز ہی۔‘ | اسی بارے میں ’ماحول کے بچاؤ کیلیے معاہدہ ہوگیا‘04 May, 2007 | آس پاس سلامتی کونسل میں ماحول کا مسئلہ18 April, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی حدت سے بدلتی دنیا 06 April, 2007 | آس پاس ماحولیاتی مسائل، انسان پر الزام02 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، ڈیواس کا ایجنڈا24 January, 2007 | نیٹ سائنس نیروبی میں ماحولیات پر اجلاس06 November, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||