BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 February, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماحولیاتی مسائل، انسان پر الزام

ماحولیاتی حدت
بڑھتا ہوا درجۂ حرارت دنیا میں بڑے اور طاقتور طوفانوں کا سبب بن رہا ہے
ماحول کی تبدیلی کا جائزہ لینے والے بین الحکومتی ادارے ’آئی پی سی سی‘ نے پیرس میں جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمین کے درجۂ حرارت میں اضافے کا ممکنہ ذمہ دار انسان کو ہی قرار دیا ہے۔

آئی پی سی سی کی (انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج) اصطلاح میں ’ممکنہ‘ کا مطلب چھیاسٹھ سے نوے فیصد ہوتا ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ موجودہ صدی میں سمندر کی سطح اٹھائیس سے تینتالیس سینٹی میٹر مزید بلند ہو جائے گی، جبکہ عالمی حدت کے نتیجے میں قدرتی طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا۔

آئی پی سی سی کی رپورٹ مرتب کرنے والے سرکردہ ماہرین میں شامل ڈاکٹر سوزن سولومن کا کہنا تھا ’ہمیں یقین ہے کہ سنہ سترہ سو پچاس کے بعد کی انسانی سرگرمیاں (ماحولیاتی) حدت کی بڑی وجہ ہیں‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات نوے فیصد تک درست ہے کہ سطح زمین پر حدت میں اضافے کی وجہ قدرتی تغیرات کی بجائے انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں خارج ہونے والی ’گرین ہاؤس گیسز‘ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درجۂ حرارت میں 1.8 درجے سے 4 درجے (سیلسی اسز) اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اس سے قبل آئی پی سی سی نے سال دو ہزار ایک میں جاری کی گئی رپورٹ میں ماحولیاتی سائنس کا ایک مختلف طریقۂ کار اپناتے ہوئے درجۂ حرارت میں 1.4 درجے سے 5.8 درجے (سیلسی اسز) لگایا تھا۔ اسی طرح سطح سمندر میں بلندی کا تخمینہ 9 سے 88 سینٹی میٹر لگایا گیا تھا۔

آئی پی سی سی کی تازہ رپورٹ تیار کرتے ہوئے ماحولیاتی سائنسدان اس بات پر منقسم تھے کہ آیا محتاط رویہ اپناتے ہوئے برف کی بالائی سطح کے پگھلنے کے عمل کو نظر انداز کر کے موجودہ صدی کے دوران سطح سمندر میں نصف میٹر بلندی کی پیشن گوئی کی جائے یا گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹک سے آنے والے ممکنہ پانی کی مقدار کو بھی ان تخمینوں میں شامل کیا جائے۔

اسی طرح درجۂ حرارت میں ممکنہ اضافے کے بارے میں بھی ماہرین کی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔

 اس صدی کے اختتام تک زمین کے درجۂ حرارت میں 1.8 سے 4 ڈگری سیلسی اسز کے درمیان اضافہ کی پیشگوئی کی گئی ہے

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک ہفتے سے جاری آئی پی سی سی کے اجلاس میں تیار کی جانے والی اس رپورٹ میں ماحولیاتی سائنس کی موجودہ صورتحال کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، جبکہ مکمل رپورٹ سال کے آخر میں جاری کی جائے گی۔

آئی پی سی سی کے ماہرین تفصیلی رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات، ان اثرات کا عادی ہونے اور نمٹنے کے طریقہ کار اور ’گرین ہاؤس گیسز‘ کے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے بھی تجاویز دیں گے۔

سائنسدانوں، سیاست دانوں اور ماحول پر کام کرنے والے اداروں کو جمعہ کو جاری ہونے والی ماحولیاتی سائنس کی اس رپورٹ کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔

نیروبی میں ایک خطاب کے دوران آئی پی سی سی کی متوقع رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحول کے ایگزیکٹو ڈاریکٹر اشم سٹائنر کا کہنا تھا ’یہ ماحولیاتی حدت کے موضوع پر حرف آخر ہوگی‘۔

توقع کے عین مطابق رپورٹ میں اس نقطۂ نظر کی حمایت کی گئی ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت دنیا میں تباہ کن طوفانوں کا سبب بن رہا ہے۔

نازک ترین وقت
کیا دنیا ایک اور خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے؟
موسم کی تبدیلیماحولیاتی تبدیلیاں
پیشین گوئی کے لیے کمپیوٹر ماڈل کا استعال
ماحول کو خطرہ ہے
سیلاب اور خشک سالی بڑھے گی: سروے
انسان اور تبدیلیاں
انسان خود بھی آب و ہوا کی تبدیلی پر اثر انداز
ہسپانیہ میں بنجر زمین اب بھی کچھ ہوسکتاہے
جنگلات کی تباہی اور شدید قحط کاخطرہ
اسی بارے میں
عالمی حدت: امریکہ پر دباؤ
29 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد