ماحولیاتی مسائل، انسان پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحول کی تبدیلی کا جائزہ لینے والے بین الحکومتی ادارے ’آئی پی سی سی‘ نے پیرس میں جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمین کے درجۂ حرارت میں اضافے کا ممکنہ ذمہ دار انسان کو ہی قرار دیا ہے۔ آئی پی سی سی کی (انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج) اصطلاح میں ’ممکنہ‘ کا مطلب چھیاسٹھ سے نوے فیصد ہوتا ہے۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ موجودہ صدی میں سمندر کی سطح اٹھائیس سے تینتالیس سینٹی میٹر مزید بلند ہو جائے گی، جبکہ عالمی حدت کے نتیجے میں قدرتی طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ مرتب کرنے والے سرکردہ ماہرین میں شامل ڈاکٹر سوزن سولومن کا کہنا تھا ’ہمیں یقین ہے کہ سنہ سترہ سو پچاس کے بعد کی انسانی سرگرمیاں (ماحولیاتی) حدت کی بڑی وجہ ہیں‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات نوے فیصد تک درست ہے کہ سطح زمین پر حدت میں اضافے کی وجہ قدرتی تغیرات کی بجائے انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں خارج ہونے والی ’گرین ہاؤس گیسز‘ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درجۂ حرارت میں 1.8 درجے سے 4 درجے (سیلسی اسز) اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل آئی پی سی سی نے سال دو ہزار ایک میں جاری کی گئی رپورٹ میں ماحولیاتی سائنس کا ایک مختلف طریقۂ کار اپناتے ہوئے درجۂ حرارت میں 1.4 درجے سے 5.8 درجے (سیلسی اسز) لگایا تھا۔ اسی طرح سطح سمندر میں بلندی کا تخمینہ 9 سے 88 سینٹی میٹر لگایا گیا تھا۔ آئی پی سی سی کی تازہ رپورٹ تیار کرتے ہوئے ماحولیاتی سائنسدان اس بات پر منقسم تھے کہ آیا محتاط رویہ اپناتے ہوئے برف کی بالائی سطح کے پگھلنے کے عمل کو نظر انداز کر کے موجودہ صدی کے دوران سطح سمندر میں نصف میٹر بلندی کی پیشن گوئی کی جائے یا گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹک سے آنے والے ممکنہ پانی کی مقدار کو بھی ان تخمینوں میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح درجۂ حرارت میں ممکنہ اضافے کے بارے میں بھی ماہرین کی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک ہفتے سے جاری آئی پی سی سی کے اجلاس میں تیار کی جانے والی اس رپورٹ میں ماحولیاتی سائنس کی موجودہ صورتحال کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، جبکہ مکمل رپورٹ سال کے آخر میں جاری کی جائے گی۔ آئی پی سی سی کے ماہرین تفصیلی رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات، ان اثرات کا عادی ہونے اور نمٹنے کے طریقہ کار اور ’گرین ہاؤس گیسز‘ کے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے بھی تجاویز دیں گے۔ سائنسدانوں، سیاست دانوں اور ماحول پر کام کرنے والے اداروں کو جمعہ کو جاری ہونے والی ماحولیاتی سائنس کی اس رپورٹ کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔ نیروبی میں ایک خطاب کے دوران آئی پی سی سی کی متوقع رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحول کے ایگزیکٹو ڈاریکٹر اشم سٹائنر کا کہنا تھا ’یہ ماحولیاتی حدت کے موضوع پر حرف آخر ہوگی‘۔ توقع کے عین مطابق رپورٹ میں اس نقطۂ نظر کی حمایت کی گئی ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت دنیا میں تباہ کن طوفانوں کا سبب بن رہا ہے۔ |
اسی بارے میں عالمی حدت: ’صدر بش کچھ کریں‘23 January, 2007 | آس پاس کیلیفورنیا:گرمی سے ہلاک 124 ہو گئے29 July, 2006 | آس پاس عالمی حدت: قانون کا مسیحی مطالبہ09 February, 2006 | آس پاس عالمی حدت: کیوٹو نہیں کچھ اور 11 January, 2006 | آس پاس عالمی حدت: امریکہ پر دباؤ29 November, 2005 | آس پاس نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||