عالمی حدت: قانون کا مسیحی مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں عیسائی فرقے Evangelicals ایونجلیکلز کے اسی سے زیادہ بہت بااثر لیڈروں نے صدر بش کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی حدت میں کمی کے لیئے وفاقی قانون بنایا جائے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس فرقے کے اُن لوگوں نے ماحول کو درپیش خطرے کا معاملہ اٹھایا ہے جن میں سے اکثر صدر بش کی رپبلکن پارٹی سے بہت قریبی لگاؤ رکھتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایونجلیکلز نے صدر بش کے الیکشن میں مدد دی تھی اور ان کے پاس اتنا اختیار ہے کہ وہ سیاسی بحث کا رخ موڑ ڈالیں۔ حالیہ برسوں میں کی ماحولیات سے دلچسی بڑھ گئی ہے۔ ایک بیان میں ایونجلیکلز نے عہد کیا کہ وہ عالمی حدت میں کمی کے لیئے کام کریں گے۔ انہوں نے کانگریس سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیوٹو معاہدے کی طرز پر جسے صدر بش پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، قانون سازی کرے۔ تاہم ایونجلیکلز کے اس اقدام پر قدامت پسند عیسائیوں نے ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد اسقاطِ حمل اور خاندانی اقدار جیسے مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ جنوبی بیپٹسٹ کنوینشن کے رچرڈ لینڈ نے جو صدر بش کے دوست بھی ہیں کہا ہے کہ سائنس ابھی تک حتمی نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا ’آپ کو احتیاط کرنی پڑتی ہے کہ اتفاقِ رائے ہونے سے قبل آپ اتفاقِ رائے کی بات نہیں کرتے۔ امریکی ایونجلیکلز میں عالمی حدت، اس کی شدت اور عالمی حدت جیسے مسائل کے حل سے متعلق کوئی اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔‘ انہوں نے ایونجلیکلز کی نیشنل ایسوسی ایشن کو جس کا دعوی ہے کہ وہ تیس ملین امریکی عیسائیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، ایک خط بھی بھیجا ہے جس میں تنظیم سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مہم سے پرے ہی رہے۔ | اسی بارے میں تبدیلئ آب و ہوا، سربراہ اجلاس28 November, 2005 | نیٹ سائنس عالمی حدت: کیوٹو نہیں کچھ اور 11 January, 2006 | آس پاس عالمی حدت سے حیوانات کو خطرہ06 October, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||