کیلیفورنیا:گرمی سے ہلاک 124 ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں گرمی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 116 ہوگئی ہے۔ ان میں زیادہ تر ریاست کیلیفورنیا کی وسطی وادی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جہاو بتایا جاتا ہے کہ درجہ حرارت گزشتہ پانچ دن کے دوران 45 ڈگری سے بھی زیادہ رہا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ اور بوڑھے لوگوں کی ہے۔ ریاست میں کئی کاؤنٹیز نے پہلے ہی ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی حکومت نے کہاتھا کہ امریکہ میں اٹھارہ سو پچانوے کے بعد یہ گرمی کی سب سے بڑی لہر ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر آرنلڈ شیوارزنگر کے دفتر کے مطابق دو روز قبل ریاست میں پڑنے والی شدید ترین گرمی کے لہر کے نتیجے میں گزشتہ بارہ دن کے دوران نوے افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ دفتر کے مطابق منگل اور بدھ کو درجہ حرارت ایک سو نو ڈگری فارن ہائيٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دو روز قبل امریکی الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصے نے اپنی نشریات میں امریکہ میں آنے والی شدید گرمی کی لہر میں صرف کیلفورنیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو چار بتائی تھی، جبکہ مقامی سرکاری ذرائع نے نوے افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔ | اسی بارے میں کیلیفورنیا:گرمی سے 104 افراد ہلاک28 July, 2006 | آس پاس قطرینہ متاثرین کیلیےمائیکل کاگانا07 September, 2005 | فن فنکار قطرینہ کے بعد: ایک رضاکار کی کہانی 06 September, 2005 | Blog قطرینہ: معاشرے کااصل چہرہ بےنقاب04 September, 2005 | آس پاس بارش اور گرمی کا قہر 07 July, 2006 | انڈیا رائے بریلی: گرمی سے پولنگ کم08 May, 2006 | انڈیا یورپ گرم ہو رہا ہے: ڈبلیو ڈبلیو ایف11 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||