BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 September, 2005, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قطرینہ کے بعد: ایک رضاکار کی کہانی
لینگڈن کنگ
لینگڈن نے مدد کرنے کے لیے کام سے کئی دن کی چھٹی لے لی ہے۔
ہریکین قطرینہ کے بعد امریکی شہر نیو آرلینز سے نکالے گئے کم از کم بیس ہزار افراد ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں انہیں ایسٹروڈوم سپورٹس سینٹر میں رکھا گیا ہے۔

لانگڈن کنگ ہیوسٹن میں رہنے والے ایک ستائیس سالہ آئی ٹی کنسلٹینٹ ہیں۔ ٹی وی پر ہریکین قطرینہ کی تباہ کاری دیکھ کر انہوں نے اور ان کی بیوی نے مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کی کہانی ہے۔


’بدھ کی رات میری بیوی اور میں نے نیوز میں دیکھا کہ نیو آرلینز سے متاثرہ لوگوں کو بسوں میں بھر کر ہیوسٹن پہنچایا جا رہا تھا۔ ہم ایسٹروڈوم سینٹر سے کوئی پانچ منٹ کے فاصلے پر رہتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ دیکھ آتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہاں پہنچتے ہی ہم نے بڑی تعداد میں بسیں دیکھیں۔

ہم نے مدد کرنے کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ پولیس لوگوں کو پیچھے دھکیل رہی تھی، اس لیے ہم وہاں سے واپس چلے آئے۔

دوسرے دن ہم ایک مقامی چرچ کے ذریعے پھر واپس گئے۔ یہ چرچ امدادی کارروائیوں میں مدد کر رہی تھی اور رضا کاروں کا انتظام کر رہی تھی۔

جیسے ہی ہم ایسٹروڈوم کے اندر پہنچے تو دیکھا کہ پلنگوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ انتے سارے لوگ دیکھ کر خود پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔

ہم ایک رجسٹریشن بوتھ پر گئے اور بطور رضاکار اندراج کروا لیا۔ وہاں انہوں نے ہمیں بازو پر پہننے والا ایک نارنجی پٹہ دے دیا۔

اس کے بعد ہم دوسروں کا اندراج کرنے میں مصروف ہو گئے۔ ہم یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سب کے پاس پلنگ ہیں اور کسی کو طبی امداد کی ضرورت تو نہیں۔ ہم لوگوں کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ انہیں خوراک اور کپڑے کہاں سے مل سکتے ہیں۔

کچھ بزرگ خواتین کھانا لینے کے لیے چوتھی منزل تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں تو ہم نے ان کی مدد کی۔ ایک بار میں نے ایک بزرگ خاتون کو دیکھا جو ایک قدم بھی چل نہیں پا رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا میں مدد کر سکتا ہوں۔ میں انہیں ایک پلنگ تک لے کر گیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ہیوسٹن میں اپنے کچھ رشتہ داروں سے رابطہ کرنا چاہتی ہیں۔

News image
ہیوسٹن میں کئی افراد نے متاثرہ لوگوں کی مدد کی ہے۔

اس خاتون کا حال ہی میں دماغ کا آپریشن ہوا تھا اور وہ ننگے پیر تھیں۔ ان کے پیر کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے۔ انہیں کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے میلوں کیچڑ میں چلنا پڑا تھا۔ خوش قسمتی سے میں ان کے ایک رشتہ دار سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

ہم کوشش کر رہے تھے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کی مدد کر سکیں۔ کئی افراد نے ہمیں بتایا کہ نیو آرلینز کے سپر ڈوم میں جہاں انہوں نے خوراک اور پانی کے بغیر کئی دن گزارے تھے، حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔

یہاں کم از کم یہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ پولیس ہر طرف ہے اور یہاں آنے والے تمام لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ دو افراد ایک پلنگ کے لیے جھگڑ رہے تھے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

میں سمجھ سکتا ہوں کہ لوگ اتنے مضطرب کیوں ہیں۔ وہ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور کئی دنوں سے نہا تک نہیں پائے ہیں۔ تاہم بچے زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہے اور وہ اپنے کھیل میں مصروف رہتے ہیں۔

میں جمعرات کو رات نو بجے کے قریب گھر کچھ کھانے کے لیے جا رہا تھا تو میں نے راستے میں سینکڑوں کی تعداد میں رضا کاروں کو ایسٹروڈوم جاتے دیکھا۔ ہیوسٹن کے میئر نے امداد کی اپیل کی تھی۔

جب میں صبح تین بجے گھر واپس گیا تو لوگوں کی بہت بڑی تعداد گاڑیوں میں موجود تھی۔ بہت سارے لوگوں نے امدادی کارروائیوں میں مدد کی اور ڈوم کے باہر ٹینٹ لگا کر لوگوں میں مفت کپڑے بانٹنا شروع کر دیا۔

میں ہیوسٹن کے ایک خاندان کو دیکھا جو ایک متاثرہ خاندان کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ ساری برادری مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

میں تو بس نیوز دیکھ رہا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ میں بھی اس میں شامل ہو جاؤں گا۔ میں بس کسی بھی طرح مدد کرنا چاہتا تھا۔ اگر میں صرف ایک شخص کی تھوڑی سی بھی مدد کر سکوں تو وہی میرے لیے کافی ہے۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66ایک ڈاکٹر کی رپورٹ
قطرینہ سے تباہی پر نیو آرلینز سے ایک رپورٹ
66سوڈان: فسادات جاری
خون ریزجھڑپوں کا آنکھوں دیکھا حال
66صوفی اور اسلام
جدید دور میں صوفی اسلام کا کردار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد