کیلیفورنیا:گرمی سے 104 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گرمی کی حالیہ لہر میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ میں اٹھارہ سو پچانوے کے بعد یہ گرمی کی سب سے بڑی لہر ہے۔ کیلیفورنیا میں گزشتہ دس دنوں سے گرمی کی شدید لہر آئی ہوئی ہے جس میں درجہ حرارت ایک سو فارن ہائیٹ سے زیادہ ہو گیا۔ اس دوران صرف ایک ہفتے میں ایک سو چار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر آرنلڈ شیوارزنگر کے دفتر کے مطابق ریاست میں پڑنے والی شدید ترین گرمی کے لہرسے گزشتہ بارہ دنوں میں نوے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دفتر کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں درجہ حرارت ایک سو نو ڈگری فارن ہائيٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ریاست کیلیفورنیا کے دارالحکومت سیکرامینٹو جہاں گزشتہ دنوں گرمی کی لہر میں مرنے والوں کی تعداد گيارہ تک پہنچی ہے وہاں گورنر آرنلڈ شیوارزنگر نے گرمی کی موجودہ لہر کو ریکارڈ توڑ کہتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیلیفورنیا میں آنے والی گرمی کی شدید لہر میں انسانی جانوں کے ضیاع کی سب سے بڑی تعداد کی رپورٹیں شمالی کیلیفورنیا میں سینٹرل ویلی اور فریسنو سے آئی ہیں۔ سان فرانسسکو کے ہسپتالوں کے حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہے وہاں کے سرد خانے گرمی کی شدید لہر میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں سے بھرے پڑے ہیں۔ موسمیات اور ماحولیاتی تاریخ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں آنے والی شدید گرمی کی لہر جنوب مغرب سے آئی ہوئی ہے جس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقہ ریاست کیلیفورنیا ہے جبکہ ریاست الینوائے میں شکاگو اور ریاست سینٹ لوئی بھی اس لہر سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی موسمیات اور ماحولیات کے ماہریں کے مطابق امریکہ میں گرمی کی اس لہر کی مثال گزشتہ سو سالوں میں نہیں ملتی جبکہ وفاقی حکومت نے ماضی میں اتنی بڑی گرمی کی لہر کی مثال صرف اٹھارہ سوپچانوے بتائي ہے۔ شکاگو ریاست میں سرکاری ادارے گرمی سے بچنے کیلیے جو ایمرجنسی اقدامات کر رہے ہیں ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ اس سلسلے میں رہنما اصول مہیا کریں گے۔ | اسی بارے میں قطرینہ متاثرین کیلیےمائیکل کاگانا07 September, 2005 | فن فنکار قطرینہ کے بعد: ایک رضاکار کی کہانی 06 September, 2005 | Blog قطرینہ: معاشرے کااصل چہرہ بےنقاب04 September, 2005 | آس پاس بارش اور گرمی کا قہر 07 July, 2006 | انڈیا رائے بریلی: گرمی سے پولنگ کم08 May, 2006 | انڈیا یورپ گرم ہو رہا ہے: ڈبلیو ڈبلیو ایف11 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||