BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 February, 2007, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماحولیاتی تبدیلیاں: سنجیدگی کا وقت

سیلابوں، سمندری طوفانوں اور خشک سالیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں ملین لوگوں کی بے گھری کا خطرہ ہے
اولیور ٹکّل کا کہنا ہے کہ: ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں اب تک کی مستند ترین رپورٹ شائع ہو چکی ہے اور دنیا کے لیے درجۂ حرارت کو بڑھانے والی گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ وہ تمام قوموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ’کیوٹو دو‘ کے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل تیار کیا جائے جو ’سنگین و منفی حالات‘ کے سدباب کر سکنے والے ’بے باک اقدام‘ پر مشتمل ہو۔

’بین الحکومتی پینل آن کلائمنٹ چینج یا ماحولیاتی تبدیلیوں کا عالمی پینل، آئی پی سی سی کی چوتھی جائزہ رپورٹ کے مطابق زمین کا اوسط درجۂ حرارت یقینی طور پر دو سے چار اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ یا تین اعشاریہ چھ سے آٹھ اعشاریہ ایک فارن ہائٹ تک بڑھے گا۔

بھلا ہو زمین کے ماحولیاتی نظام سے ملنے والے ان مثبت پیغامات کا جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اضافہ چھ درجے سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اگر درجۂ حرارت میں یہ اضافہ اس پیمانے کے نصف تک بھی پہنچ گیا تو بھی اس کا مطلب ہو گا ایک ہولناک تباہی۔

اِس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہو جائے گی اور سیلابوں، سمندری طوفانوں اور خشک سالیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں ملین لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا۔

ایک دکھائی دیتا خطرہ
 اگر درجۂ حرارت میں اضافہ اندازوں کی نسبت آدھا بھی ہوا تو یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا

تاہم ابھی یہ صورت بے مداوا نہیں ہے۔ 1997 میں دنیا نے اس سلسلے میں ایک اہم قدم اٹھایا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے ’کیوٹو اوّل معاہدے کا مسودہ‘ یعنی کیوٹو پروٹوکول ترتیب دیا۔

لیکن تا وقت کیوٹو پروٹو کول کی حیثیت محض علامتی ہے اور صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کرۂ ارض کے مستقبل کو بچانے کے لیے ایسے اجتماعی اقدام کر سکتی ہے جو مستقبل میں کیے جا سکنے والے اقدام کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔

تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج کو روکنے پر اس کا اثر غیر یقینی اور انتہائی کم ثابت ہوا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج اسی انداز اور رفتار سے جاری و ساری ہے جیسے کہ میں کیوٹو پروٹوکول سے پہلے 1997 میں تھا۔

بہر صورت 2012 کیوٹو پروٹوکول اپنی مدت ختم کر رہا ہے، تو کیا ہوا مجھے یقین ہے کہ اس کی جگہ ایک ایسے نئے پرٹوکول کی ضرورت ہے جو اپنے دائرۂ عمل اور توقعات میں موجودہ پروٹوکول کی نسبت کہیں دور رس ہو۔

اُس پروٹوکول کو حقیقی معنوں میں عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں کمی کا باعث بننا ہو گا۔ اس کا لائحۂ عمل ایسا ہونا چاہیے کہ تمام ملکوں کو اس طرح اپنے دائرۂ عمل میں لا سکے کہ ان کی شمولیت مؤثر و مساوی ہو۔

کیو ٹو معاہدہ
کیوٹو اوّل جیسا بھی ہے 2012 میں ختم ہو جائے گا لیکن اس کے بعد کیا ہو گا۔ اس کا جواب اب تک سامنے نہیں آ سکا

اس پروٹوکول کو قدرتی ایندھنوں سے بہت آگے نکل آنے والے دنیا کے لیے ترقی کے ایک ایسے نئے راستے کی نشاندھی کرنی چاہیے جو ان تمام ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے اثرات کا مداوا تجویز کرنا چاہیے جن فرار اس وقت بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے اور جو ان ملکوں کے غیر متناسب طور پر زیادہ متاثر کرتے ہیں جو ان سے نمٹنے کے قابل نہیں۔‘

(اولیور ٹکّل ایک فری لانس صحافی ہیں اور ماحولیاتی معاملات اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔)

موسم کی تبدیلیماحولیاتی تبدیلیاں
پیشین گوئی کے لیے کمپیوٹر ماڈل کا استعال
ماحول کو خطرہ ہے
سیلاب اور خشک سالی بڑھے گی: سروے
انسان اور تبدیلیاں
انسان خود بھی آب و ہوا کی تبدیلی پر اثر انداز
ہسپانیہ میں بنجر زمین اب بھی کچھ ہوسکتاہے
جنگلات کی تباہی اور شدید قحط کاخطرہ
 مونٹریال کانفرنس آلودگی کے مذاکرات
امریکہ فیصلوں میں شریک ہوگا، پابند نہیں
ماحولیاتی کانفرنس
امریکہ کی موسمیاتی کانفرنس کو وارننگ
عالمی حدت اضافہ
حدت میں اضافہ ایک حقیقت، ذمہ دار انسان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد