مونٹریال کانفرنس: امریکہ کی آمادگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شرح کم کرنے کے لیے طویل المعیاد مذاکرات میں اس شرط پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ ان مذکرات کے نتیجے میں ہونے والے فیصلیوں پر عمل کا پابند نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ نے مونٹریال میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ڈیڑھ سو ملکوں کے دوسرے اہم فیصلوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ کانفرنس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ماحولیات کے اہم معاہدے کیوٹو کے اہداف کو دو ہزار بارہ سے آگے بڑھایا جا سکے طویل معیاد مذاکرات میں امریکہ کی شمولیت کو اس لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں اس نے کیوٹو پروٹوکول میں شامل ہونے سے قطعاً انکار کر دیا تھا۔ کانفرنس میں امریکہ کے نمائندے ہارلینڈ واٹسن نے امریکہ کے اس فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا ملک ان مذاکرات میں اس لیے شامل ہونے پر راضی ہوا ہے کہ اس طرح اسے اپنا موقف ظاہر کرنے کا پلیٹ فارم ملے گا اور ترقی پذیر ممالک کو بھی یہ پلیٹ فارم حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت مفید بحث ثابت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ نے یہ فیصلہ اس کانفرنس کی دستاویز میں ان تبدیلیوں کے بعد کیا ہے جو انتہائی مناسب تھیں۔
عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف میں موسمی تبدیلی کے نگراں اِنچارج جینیفر مورگن نے کانفرنس میں ہونے والے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ لیکن ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کسی حد تک یہ درست ہے کہ امریکہ نے یہ واضح طور پر کہا ہے وہ مذاکرات میں طے پانے والے فیصلوں کا پابند نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ان مذاکرات اور کیوٹو معاہدے کے تحت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ تمام ممالک کو شامل ہونا ہوگا۔ یہ فیصلے کانفرنس میں ہوئے ہیں لیکن بش انتظامیہ کا اسرار تھا کہ وہ ان مذاکرات کے پابند نہیں ہوگی اور اسے بڑی مشکل سے رضاکارانہ حیثیت پر آمادہ کیا گیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ باقی دنیا سے کتنے کٹے ہوئے ہیں اور عالمی حدت کے مسلے کو حل کرنے میں کتنے غیر سنجیدہ ہیں‘۔ لیکن امریکہ کی اس مشروط شمولیت کے باوجود مونٹریال کی اس کانفرنس کو ماحولیاتی لحاظ سے بہت کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ عالمی حدت پر مذاکرات میں چین اور بھارت بھی شامل ہونگے جو کہ ترقی پذیر ممالک ہیں لیکن جن کی معیشت انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ | اسی بارے میں نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس افریقی امداد دوگنی کرنے کا بش منصوبہ01 July, 2005 | آس پاس کیوٹو پرٹوکول 16 فروری سے نافذ 16 February, 2005 | آس پاس کیوٹو پروٹوکول اور فضا میں آلودگی14 February, 2005 | Debate ’کیوٹو معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں‘08 December, 2004 | آس پاس کیوٹومعاہدہ قانون بن جائےگا18 November, 2004 | آس پاس ’کیوٹو پر ہمارا موقف نہیں بدلےگا‘23 October, 2004 | آس پاس روس نے کیوٹو معاہدہ منظور کرلیا22 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||