ماحولیاتی تبدیلی، ڈیواس کا ایجنڈا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئزرلینڈ کے شہر ڈیواس میں بدھ سے شروع ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کا بنیادی ایجنڈا ماحولیاتی تبدیلی، ایشیا کا عروج اور آنے والا ویب انقلاب ہوگا۔ سوئزر لینڈ کے اس برف پوش پہاڑی مقام پر پانچ روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں دنیا سے اہم تاجر شخصیات، سیاست دان اور ماحولیات سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کے کارکن شرکت کریں گے۔ ان اہم شخصیات میں بل گیٹس، ٹونی بلئیر اور پاپ سٹار بونو شامل ہیں۔ عالمی تجارت پر جمود کے شکار مذاکرات کی از سر نو بحالی کے لیے مختلف ممالک کے تیس سے زائد وزراء بھی اجلاس کے دوران ملاقات کریں گے۔ اس اہم اجلاس میں نوے ممالک کے دو ہزار چار سو مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ فورم کے بانی پروفیسر کلاؤس شواب کا کہنا تھا کہ فورم میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نمائندگان جغرافیائی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں پر بحث کریں گے جس نے دنیا کو تیزی سے بڑھتے ایک تفسیاتی ہیجان میں مبتلا کردیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس بات کی بھی توقع ہے کہ اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو روزانہ عالمی حدت پر مبنی معلومات فراہم کی جائے۔ عام طور پر سال کے ان دنوں ڈاوس شہر ایک یا پھر دو فٹ برف میں دھنسا ہوتا ہے مگر اس مرتبہ سردی کچھ اتنی زیادہ نہیں اور پہاڑوں پر سبزہ بھی بڑی تعداد میں نظر آ رہا ہے۔ رات کے دوران کچھ برف باری ہوتی تھی تاہم وہ اتنی شدید نہیں تھی کہ جس کی توقع یہاں آنے والے کر رہے تھے۔ پانچ روزہ اس اجلاس کے اہم موضوعات میں سیاسی حالات جیسے عراق میں جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سرفہرست ہوں گے۔ توقع ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا مرکل بھی اجلاس کے آغاز کے موقع پر اپنا بین الاقوامی ایجنڈا بیان کریں گی۔ وہ اس وقت جی ایٹ کی سربراہی کے علاوہ یورپی یونین کے صدارتی فرائض بھی سرانجام دے رہی ہیں۔
اجلاس میں دنیا کی سو سے زائد کمپنیوں کے ستر سے زائد سربراہ شرکت کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ٹیکنالوجی، غیر منافع بخش اور سماجی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ ان تنظیموں میں گرین پیس، آوکسفیم اور اسلامک ریلیف شامل ہیں۔ تاہم اس مرتبہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں فن کی دنیا کے ستاروں کی جھلک معدوم ہے۔ اس سے قبل ڈاوس میں منعقدہ فورم کے دو اجلاسوں میں کئی نامور اداکار جیسے انجیلینا جولی، بریڈ پٹ اور شیرون سٹون شرکت کر چکے ہیں۔ اس مرتبہ فن کی دنیا سے تعلق رکھنے والی ہستیوں کی تعدا قدرے کم ہے۔ سپر ماڈل کلاڈیا شیفر اور راک سٹار اور غربت کے خلاف مہم کے سرگرم رکن بونو شرکت کریں گے۔ فورم کے بانی پروفیسر شواب ورچوئل آن لان ورلڈ سیکنڈ لائف پر دیکھے جا سکیں گے تاکہ ڈیجیٹل شائقین کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ اجلاس میں عام لوگ بھی شرکت کریں اور اس مقصد کے لیے بلاگ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور دنیا بھر سے لوگوں کو عالمی رہنماؤں سے سوالات پوچھنے کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ فورم میں لگے ویب کیم کی مدد سے سوالات کر سکیں گے۔ کچھ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے مظاہروں کے بعد ڈاوس کی وادی کے آس پاس سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سوئس ائیرفورس پہلے ہی اس علاقے کو نو فلائنگ زون قرار دے چکی ہے۔
ڈاوس کے اجلاس کا نعرہ ’طاقت کی منتقلی کا توازن‘ رکھا گیا ہے اور فورم کے ایجنڈے میں مندرجہ ذیل موضوعات شامل ہیں: ’عالمگیریت ہماری معیشت کو بدل رہی ہے، دہشت گردی، جنگیں، تیل کی سیاست، ایشیا کا عروج، ٹیکنالوجی اور بطور خاص انٹرنیٹ، یہ سب وہ عناصر ہیں جو دنیا بھر میں جغرافیائی سطح پر تبدیلیاں پیدا کرنے کا سبب ہیں اور اسی تناظر میں مخلتف کمپنیوں کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کاروبار اور صارفین کو عالمی مربوط رابطوں میں کیسے مشغول کریں‘۔ اس جلاس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ تمام وہ تبدیلیاں ہیں جن سے غیر یقینی کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں لوگوں کا اعتماد مذہبی رہنماؤں پر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ساٹھ ملکوں کے پچپن ہزار لوگوں کی رائے پر مشتمل اس جائزہ کے مطابق لوگ سیاست دانوں پر سب سے کم اعتماد کرتے ہیں جبکہ بزنس سے وابستہ شخصیات کو لوگوں نے زیادہ نمبر دیے۔ چالیس فیصد کا خیال ہے کہ اگلی نسل کو زیادہ بہتر ماحول میسر ہو گا جبکہ 31 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے بچے بدترین صورت حال کا شکار ہوں گے۔ |
اسی بارے میں ورلڈ اکنامک فورم کا آغاز26 January, 2005 | آس پاس عالمی سماجی فورم شروع16 January, 2004 | آس پاس ماحولیاتی کانفرنس حتمی مرحلے میں07 December, 2005 | نیٹ سائنس ماحولیاتی معاہدہ: روس پرعالمی تنقید30 September, 2003 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||