ورلڈ اکنامک فورم کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کے دو ہزار سے زائد کاروباری اور سیاسی لیڈر ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے سوئزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ آنے والے پانچ دنوں تک یہ لیڈر اس فورم میں چین کی اقتصادی قوت سے لے کر عراق کے مستقبل تک تمام معاملات پر بات چیت کریں گے۔ گزشتہ سالوں کے برعکس اس برس اس فورم کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں جوش وخروش نظر نہیں آ رہا۔ عالمگیریت کے مخالفین نے ہفتے کے اختتام پر ہونے والا مظاہرہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ اس بین ا لاقوامی اجلاس میں دنیا کی پانچ سو بڑی کاروباری کمپنیوں کے سربراہان بھی شریک ہیں جو کہ کارپوریٹ لیڈر شپ جیسےمعاملات پر بات چیت کریں گے۔ اس اجلاس کے دوران میڈیا کی زیادہ تر توجہ سیاسی رہنماؤں پر ہو گی جن کی بات چیت کا ایک بڑا مقصد ایران عراق اور چین کے معاملات پر غور کرنا ہو گا۔ اس اجلاس کے منتظمین کو امید ہے کہ اس اجلاس کے دوران نومنتخب فلسطینی رہنما محمود عباس اسرائیلی نائب وزیرِاعظم سے مذاکرات بھی کر سکتے ہیں۔ دنیا کے امیر ترین شخص اور مائیکرو سوفٹ کے سربراہ بل گیٹس بھی اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس دوران کاروباری معاملات کے علاوہ رفاہِ عامہ کے کاموں سے متعلق مہم میں بھی حصہ لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||