معاشی ترقی کیساتھ ماحولیاتی تبدیلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کا کہنا ہے کہ وہ معاشی ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا چاہتا ہے جبکہ آسٹریلیا نےگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کی جانب سے اس بات کا اعلان ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پہلے قومی منصوبے میں کیا گیا ہے۔ منصوبے کی تفصیلات کے مطابق چین گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ہوائی، جوہری اور پن بجلی کے زیادہ استعمال کی مدد سے کم کرے گا اور اس لے علاوہ کوئلے سے چلنے والے کارخانوں کو بھی بہتر بنایا جائےگا۔ یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چینی صدر ہوجن تاؤ جی ایٹ سربراہ اجلاس کے لیے جرمنی میں ہیں اور جہاں جرمن چانسلر نے ماحولیاتی تبدیلی پر اقوامِ متحدہ کے پروٹوکول کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر آسٹریلیا نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے آلودگی میں کمی کے لیے کاربن ٹریڈنگ سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم جان ہارورڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاربن اخراج پر پابندی لگانے سے ملک کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ آسٹریلیا کو حال ہی میں قحط کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے نہ صرف ملک کی معاشی ترقی متاثر ہوئی تھی بلکہ آسٹریلوی کسانوں میں بے چینی کی لہر بھی دوڑ گئی تھی۔ آسٹریلیا اور امریکہ وہ دو بڑے صنعتی ملک ہیں جنہوں نے گرین ہاؤس گیسوں کے حوالے سے 1997 کے کیوٹو معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ | اسی بارے میں ماحولیاتی تبدیلی اربوں کو خطرہ09 April, 2007 | نیٹ سائنس کروڑوں غریب لوگ متاثر ہوں گے06 April, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی مسائل، انسان پر الزام02 February, 2007 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس 2007 میں حدت اور بڑھےگی 04 January, 2007 | نیٹ سائنس گلوبل وارمنگ سے زیادہ تباہ کاریاں15 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||