ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شریک دنیا کے سیاسی رہنما ماحولیات میں بڑھتی ہوئی آلودگی سے نمٹنے کے ایک معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔ مندوبین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امیر ممالک اور ترقی پزیر ملکوں کو ماحول میں آلودگی پھیلانے والے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے اہداف پورے کرنے ہوں گے۔ امریکی دارالحکومت میں ہونے والی یہ ایک غیررسمی کانفرنس تھی جس کی قرارداد پر عمل کرنا حکومتوں کے لیے لازمی نہیں ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ آنے والے دنوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے معاہدے ’کیوٹو پروٹوکول‘ کی جگہ اپنا لے گا۔ کانفرنس کے آخری سیشن میں جو بیان دیا گیا ہے اس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ماحولیات میں تبدیلی ’بلا شبہ‘ انسان کی پیدا کردہ ہے۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے بیشتر قانون ساز تھے۔
اس دو روزہ کانفرنس میں جی ایٹ ممالک اور برازیل، چین، انڈیا، میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے پارلیمانوں کے اراکین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار روجر ہرابین کا کہنا ہے کہ مندوبین ماحولیات کے بارے میں کافی سنجیدہ تھے۔ کیوٹو پروٹوکول سن 2012 میں میں ختم ہوجائے گا اور کانفرنس کے شرکاء نے امید کی کہ اس کی جگہ سن 2009 میں ہی وہ ایک متبادل معاہدے پر اتفاق کرلیں گے۔ امریکی سینیٹر ’جو‘ لیبرمین نے اس موقع پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی کانگریس اگلے سال کے اختتام تک فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے سے متعلق ایک قانون منظور کرلے گی۔ ریپبلیکن پارٹی کے رہنما جان میکین نے، جو لیبرمین کے ساتھ ماحولیات سے متعلق ایک بِل امریکی کانگریس میں پیش کررہے ہیں، کہا کہ امریکی کانگریس اور بش انتظامیہ اس بِل پر اتفاق کرلیں گے۔ دریں اثناء کینیڈا کی پارلیمان حکومت پر یہ لازمی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ کیوٹو پروٹوکول کے تحت طےشدہ اہداف پورے کرے۔ ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک پینل نے اسی ماہ یہ کہا تھا کہ جس رفتار سے ماحولیات میں تبدیلی آرہی ہے اس سے آنیوالے دنوں میں دنیا کو سیلاب اور خشک حالی اور طوفانوں کا سامنا ہوگا۔ |
اسی بارے میں جنگلات کی تباہی، شدید قحط کاخطرہ16 April, 2006 | نیٹ سائنس ’ماحول کیلیے فنڈ بڑھائیں‘06 August, 2006 | نیٹ سائنس گلوبل وارمنگ سے زیادہ تباہ کاریاں15 August, 2006 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس بدلتےموسم،خشک سالی کا خطرہ20 October, 2006 | نیٹ سائنس عالمی حدت: ’صدر بش کچھ کریں‘23 January, 2007 | آس پاس ہانگ کانگ: موسمی تبدیلی سے خطرہ23 November, 2006 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی سلامتی کیلیے خطرہ15 November, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||