فرانس: ماحول کے لیے بتیاں مدھم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں جمعرات کے روز ماحول کی تبدیلی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی مہم کے سلسلے میں پانچ منٹ کے لیے پیرس شہر میں بتیاں مدھم کر دی گئیں۔ اس مہم میں آئیفل ٹاور پر لگے ہوئے بیس ہزار بلب بھی دھیمے ہو گئے۔ فرانس میں ان پانچ منٹوں کے دوران دوران مجموعی طور پر بجلی کی مانگ میں آٹھ سو میگاواٹ کی کمی ہوئی جو کہ بجلی کی کل مانگ کا ایک فیصد ہے۔ پیرس میں جمعہ کے روز ایک رپورٹ جاری کی جا رہی ہے جس میں ماحول کی تبدیلی میں انسان کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والی کارکن این نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ ماحول کے تحفظ کے لیے کردار اداد کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس کے لیے رہنمائی چاہیے۔ ’ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کیا کر سکتے ہیں، وہ کچھ بتیاں بند کر سکتے ہیں لیکن یہ کافی نہیں، سیاستدانوں کو بھی کچھ کرنا ہوگا‘۔ یورپ کے کچھ دوسرے شہروں میں بھی علامتی ’بلیک آؤٹ‘ ہوئے۔ روم میں شہر کے دو معروف مقامات پر بتیاں گل کی گئیں۔ اسی طرح ہسپانیہ کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک مقام پر ایسا کیا گیا۔ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں پارلیمان، سٹی ہال اور وزارت خارجہ کی عمارات اندھیرے میں ڈوبی رہیں۔ | اسی بارے میں ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس قطبِ شمالی کی برف پگھلنے لگی30 December, 2006 | نیٹ سائنس ڈیموکریٹس کی توجہ ماحولیات پر02 December, 2006 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس پانی کی قلت: ایک عالمی مسئلہ16 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||