BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 September, 2006, 18:39 GMT 23:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موسم تیزی سے بدل رہے ہیں
آنے والی صدی میں خدشہ ہے کہ سمندروں کی سطح چار میٹر تک زیادہ ہو جائے گی
امریکہ کے نامور سائنسدان جان ہالڈرن کا کہنا ہے کہ دنیا کے موسموں میں خطرناک حد تک تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔

انہوں نے سائنس کی ترقی کے لیے بنائی گئی امریکی ایسوسی ایشن کے صدر کا عہدہ سمبھالنے کے بعد اپنے پہلے نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ موسم بہت تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی ہماری توقعات سے بڑھ کر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ اب ہم موسم کی تبدیلی کو جاننے کے لیے بنائے گئے ماڈل دیکھ کر یہ نہیں بتا سکتے کہ مستقبل کا موسم کیسا ہو گا۔ انسان کی دنیا کے موسم میں بڑھتی ہوئی دخل اندازی کے باعث ہمیں یہ تبدیلی دیکھنی پڑ رہی ہے اور ہم مستقبل میں اس سے اور بھی زیادہ تبدیلی دیکھیں گے۔

انہوں گرین لینڈ آئس کیپ کے پگھلنے کے مسئلے کی سنجیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں زیادہ ہیٹ ویوز، سیلاب اور جنگلات میں آگ لگنے کے مسائل پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ رفتار سے تبدیلی جاری رہی تو سمندروں کی سطح اس صدی میں چار میٹر تک بلند ہونے کا خدشہ ہے جو کہ پہلے کی جانے والی پیشن گوئیوں سے بہت زیادہ ہے۔

پروفیسر ہالڈرن نے کہا کہ یہ سطح صرف گرین آئس کیپ کے پگلنے سے بڑھے گی اور اس سے کئی شہر زیرِ آب آ جائیں گے۔

انہوں نے صدر بش پر الزام لگایا کہ وہ اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ دھویں کے اخراج میں کمی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ وہ اپنے ان بیانات پر بھی عمل نہیں کر رہے جن میں انہوں نے کہا ہے موسموں کی اس تبدیلی کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر کام کیا جائے گا۔

پروفیسر ہالڈرن کا کہنا ہے کہ دنیا کے موسموں میں ہونے والی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے

ان کا کہنا ہے کہ’ ہم موسم میں ہونے والی اس تبدیلی کو روکنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کر رہے جو ہمارے پاس ہے اور نہ ہم اپنا پیسہ، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں بہتری پر صرف کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہاورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امریکی حکومت نے توانائی کی تحقیق پر خرچ ہونے والا بجٹ 2001 سے نہیں بڑھایا ہے۔ اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ موسمی ٹیکنالوجی کے لیے دی جانی والی امداد کو تین سے چار گنا تک بڑھایا جائے۔

گزشتہ برس برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے ایک سائنس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس کا مقصد موسموں میں ہونے والی اس تبدیلی کا جائزہ لینا تھا۔

کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ موسم میں تبدیلی دو سینٹی گریڈ سے زیادہ نہ ہو، فضا میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کے لیول فی ملین میں چار سو سے زیادہ تجاوز نہ کریں اور ان کی حد زیادہ سے زیادہ سے زیادہ چار سو پچاس تک ہو۔

اکتوبر میں میکسیکو میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں برطانیہ کے ماحول اور توانائی کے وزرا اپنے ساتھیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ ایسے بیس ملک جن میں آلودگی کا تناسب بہت زیادہ ہے وہ کاربن ڈائی اکسائیڈ کے تناسب کو بڑھنے سے روکنے کی حامی بھریں۔

پروفیسر ہالڈرن کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ امریکی انتظامیہ پہلے ہی اس بات پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے کہ کاربن ڈائی اکسائیڈ کے استعمال کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سے یقینًا کئی کاموں میں رکاوٹ ہو گی اور صدر بش پہلے ہی اس بات سے انکار کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
عالمی حدت، عالمی مصائب
11 December, 2003 | صفحۂ اول
ماحول کی تبدیلی پر بحث جاری
09 December, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد