’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحول کی تبدیلی کا جائزہ لینے والا بین الحکومتی ادارہ ’آئی پی سی سی‘ اس نتیجہ پر پہنچنے والا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے پیچھے بہت حد تک انسان کا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ بہت حد تک سے آئی پی سی سی (انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج) کی مراد ہے نوے فیصد سے زائد۔ یہ اس ادارے کا سال دو ہزار ایک میں جاری کی گئی اپنی رپورٹ کی نسبت زیادہ سخت موقف ہے۔ یہ رپورٹ جمعہ کو جاری کی جائے گی۔ آئی پی سی سی کے ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلی پر اپنی رپورٹ کے کچھ پہلوؤں کو ابھی ترتیب دینا ہے، جن میں سطح سمندر میں اضافہ کی وجوہات بھی شامل ہیں۔ ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا محتاط رویہ اپناتے ہوئے برف پگھلنے کے عمل کو نظر انداز کر کے موجودہ صدی کے دوران سطح سمندر میں نصف میٹر بلندی کی پیشن گوئی کی جائے یا گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹک سے آنے والے ممکنہ پانی کی مقدار کو بھی ان تخمینوں میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح درجۂ حرارت میں ممکنہ اضافے کے بارے میں بھی ماہرین ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ آئی پی سی سی کی رپورٹ میں اس صدی کے اختتام تک زمین کے درجۂ حرارت میں دو سے ساڑھے چار درجے (سیلسی اسز) کے درمیان اضافہ کی پیشن گوئی کی جائے گی۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک ہفتے سے جاری آئی پی سی سی کے اجلاس میں تیار کی جانے والی یہ رپورٹ ماحولیاتی سائنس کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کرے گی، جبکہ مکمل رپورٹ سال کے آخر میں جاری کی جائے گی۔ آئی پی سی سی کے ماہرین تفصیلی رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات، ان اثرات کا عادی ہونے اور نمٹنے کے طریقہ کار اور ’گرین ہاؤس گیسز‘ کے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے بھی تجاویز دیں گے۔ لیکن سائنس دان، سیاست دان اور ماحول پر کام کرنے والے ادارے ماحولیاتی سائنس کی اس رپورٹ کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں جو جمعہ کو شائع ہونے والی ہے۔ نیروبی میں ایک خطاب کے دوران آئی پی سی سی کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحول کے ایگزیکٹو ڈاریکٹر اشم سٹائنر کا کہنا تھا ’یہ ماحولیاتی حدت پر حرف آخر ہوگی‘۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آئی پی سی سی اس نقطۂ نظر کی کسی حد تک حمایت کرے گا جس کے تحت کہا جاتا ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت دنیا میں بڑے اور طاقتور طوفانوں کا سبب بن رہا ہے۔ | اسی بارے میں عالمی حدت: ’صدر بش کچھ کریں‘23 January, 2007 | آس پاس کیلیفورنیا:گرمی سے ہلاک 124 ہو گئے29 July, 2006 | آس پاس عالمی حدت: قانون کا مسیحی مطالبہ09 February, 2006 | آس پاس عالمی حدت: کیوٹو نہیں کچھ اور 11 January, 2006 | آس پاس عالمی حدت: امریکہ پر دباؤ29 November, 2005 | آس پاس نئے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط28 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||