BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 December, 2006, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قطبِ شمالی کی برف پگھلنے لگی
قطب شمالی
ایلسمیئر آئس لینڈ قطب شمالی سے 800 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے
سائنسدانوں نے کینیڈا کے قطب شمالی کے ایک برفیلے جزیرے میں گزشتہ سال برف کے ایک بہت بڑے ٹکڑے (آئس شیلف) کے ٹوٹنے کی نشاندہی کی ہے جو عالمی حدت میں اضافے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

برف کے ٹوٹنے والے اس عظیم ٹکڑے کو جسامت کے اعتبار سے پچھلے پچیس سالوں میں ٹوٹنے والاسب سے بڑا ٹکڑا کہا جا رہا ہے۔

برف کے ٹکڑے کے ٹوٹنے کا واقعہ اگست 2005 میں پیش آیا تھا لیکن اس کی نشاندہی حال ہی میں سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر سے ہوئی ہے۔

سائنسدانوں سے خبردار کیا ہے کہ برف کا یہ عظیم ٹکڑا اگر اپنی جگہ سے حرکت کرلے تو وہ خطے جہاں سے تیل نکلتا ہے اور جہاز رانی کے راستوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سمندر کی سطح پر تیرنے والا برف کا یہ ٹکڑا پچیس سکوائر میل کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔

اوٹاوا یونیورسٹی میں نائب پروفیسر کیوک کوپلینڈ نے بتایا کہ منطقہ قطب شمالی سردیوں کے موسم میں برف سے ڈھکا رہتا ہے اور سمندر کے ساتھ پچاس کلو میٹر یا تیس میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ آنے والی گرمیوں میں جب برف پگھلتی ہے تو برف کا یہ بڑا جزیرہ سمندر کے ساتھ غیر محسوس طریقے سے اپنی جگہ سے خود بخود حرکت کر سکتا ہے اور اس کے پگھل کر بہنے کا راستہ مغرب میں بیوفورٹ سمندر کی طرف ہوگا جہاں تیل، گیس کے ذخائر، بادبانی اور کشتی رانی کے راستے واقع ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایلسمیئر آئس لینڈ (Ellesmere island ) کے شمالی ساحل کے بہت دور واقع ہونے کی وجہ سے برف کے اس جزیرے کے ٹوٹنے کے بارے میں ابتدائی طور پر کچھ پتہ نہیں چلا۔ Ellesmere island قطب شمالی سے کوئی 800 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے نتائج برف کے اس جزیرے میں 15 کلو میٹر کی دراڑ ظاہر کرتے ہیں۔تقریبًا ایک گھنٹے میں ساحل سے ایک کلومیٹر کے حساب سے برف بہہ رہی ہے۔

پروفیسر کیوک کوپلینڈ کے مطابق اگر آپ برف کے جزیرے کے ایک کنارے پر کھڑے ہوں تو دوسرا کنارہ نہیں دیکھ سکتے اور برف کے اس بڑے ٹکڑے کی اس قدر تیزی سے حرکت تعجب خیز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برفیلے ذخیرے کے کناروں پر برف کے جمنے میں کمی اور قطب شمالی کا ریکارڈ بڑھتا درجہ حرات، برفیلے ٹکرے کے ٹوٹنے کی وجوہات ہیں۔ 1960 کے بعد سے کینیڈا میں آئس شیلف نوے فیصد تک سکڑ گئے ہیں۔

پروفیسر کیوک کوپلینڈ کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی کوئی ایک وجہ نہیں ہو سکتی لیکن جب آپ بڑے پیمانے پر دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ گزشتہ صدی میں شمالی Ellesmere island میں برفیلے شیلف ٹوٹنے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ برف کے ٹوٹنے کا عمل جاری ہے مگر پچھلے پچیس سالوں میں پہلی مرتبہ برف کا اتنا بڑا شیلف ٹوٹا ہے۔

اسی بارے میں
انٹارکٹ میں حدت، برف پگھل گئی
23 September, 2004 | نیٹ سائنس
قطب شمالی کی برف میں کمی
29 September, 2005 | نیٹ سائنس
قطب شمالی: برف میں ریکارڈ کمی
14 September, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد