ہمالیہ کی برف کم، کروڑوں خطرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ماحول کے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ کی وجہ سے ہمالیہ کی برف تیزی سے پگلنا شروع ہو گئی ہے جس سے برصغیر پاک و ہند اور چین میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہمالیہ کے گلیشئیر اوسطاً دس سے پندرہ میٹر ( 33 فٹ) سالانہ کے حساب سے کم ہو رہے ہیں۔ گلیشئیر کی جلدی سے پگھلنے کی وجہ سے پہلے ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں میں طغیانی آئے گی لیکن کچھ عرصے بعد دریاؤں میں پانی کم ہو جائے گا جس سے پاکستان، بھارت، نیپال ، اور چین میں کروڑوں زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گا۔ ہمالیہ خطہ عرض پر بحرہ منجمد شمالی کے بعد برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ڈائریکٹر جینیفر مورگن کے مطابق اگر برف اسی رفتار سے پگھلتی رہی تو چند عشروں میں دریاؤں میں پانی کی مقدار کم ہو جائے گی جس سے علاقے کی زراعت تباہ ہو جائے گی جس کا ان دریاؤں کے پانی پر انحصار ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت جاری کی گئی جب جی ایٹ کے ممالک کی ایک کانفرنس لندن میں منعقد ہو رہی جس میں ماحول کی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور ہوگا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک کےنام ایک خط میں لکھا ہے کہ ماحول کی بدلتی ہوئی صورتحال سے دنیا کی معیشت اور سلامتی پر اثر انداز ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق اگر ماحول کی بدلتی ہوئی صورتحال اسی طرح جاری رہی تو اگلے بیس سالوں میں ماحول میں 3.6 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||