BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 March, 2005, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پانی دے مولا پانی دے‘

بی بی سی سنگت
’ پانی اور ڈیموں پر لوگوں کی تشویش کی سب سے بڑی وجہ اعتماد کی کمی ہے‘
حیدر آباد یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں پانی کے موضوع پر بی بی سی کے زیرِاہتمام ایک مذاکرہ میں شرکاء نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بی بی سی کے اس پروگرام میں تقریباً ڈیڑھ ہزار سامعین نے شرکت کی۔

سندھ میں پانی کا موضوع تو ویسے ہی ایک گرماگرم موضوع ہے۔ بی بی سی کے اس پروگرام میں پانی کے موضوع پر لوگوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

پروگرام کی ایک مہمان خاتون شخصیت نور الھدی شاہ نے اپنی سندھی نظم کا اردو میں ترجمہ کچھ یوں کیا۔

پانی دے مولا پانی دے
مولا ہم کو پانی دے
چاہے ایک بوند ہی دے۔

مقامی سیاست دان بھی بی بی سی کے اس پروگرام میں شرکت کے لیے موجود تھے جن میں حیدرآباد سے متحدہ مجلس عمل کے رکن صوبائی اسمبلی ارشد شاہ، متحدہ قومی موومنٹ کے مقامی رہنما سراج ہاشمی اور ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی شامل تھے۔

اس موقع پر سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام ،بشیر احمد چانڈیو کا کہنا تھا کہ پانی اور ڈیموں پر لوگوں کی تشویش کی سب سے بڑی وجہ اعتماد کی کمی ہے۔

اس پروگرام خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد نے شرکت کی اور انہوں نے بھی بڑھ چڑھ کر سوالات کیے۔ایک خاتون عمرانہ کوثر کا کہنا تھا کہ اگر ڈیم بنانے کا فیصلہ جنرل مشرف کو ہی کرنا ہے تو اس ملک میں ماہرین کی کیا ضرورت ہے۔

بی بی سی کہ اس پروگرام میں بیشتر لوگ ایسے تھے جو بی بی سی پہچان بننے والی آوازوں کے پیچھے چھپے چہروں کو دیکھنے آئے تھے۔بی بی سی کے سامعین کی ایک بڑی تعداد کی زبان پر یہ سوال تھا کہ آخر بی بی سی یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے اور بی بی سی اپنی سندھی زبان میں نشریات کب شروع کر رہی ہے۔

پانی اور ڈیموں کی تعمیر کے موضوع پر گفتگو کے بعد بی بی سی لندن اور پاکستان کے سینئر نمائندوں نے اور بی بی سی کے پروگراموں سے متعلق سامعین کے سوالات جوابات دیے۔ بی بی سی کے سامعین کی ایک بڑی تعداد نے بی بی سی کے ایک سوالنامے پر تحریری طور پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اس پروگرام کی ایک اور خاص بات یہ بھی تھی کہ صرف حیدرآباد سے ہی لوگوں نے اس میں شرکت نہیں کی بلکہ اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس پروگرام میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

بی بی سی کا یہ پہلا پروگرام تو سامعین کے گلے شکوے، تعریفوں اور آراء کے بعد ختم ہو گیا لیکن سندھ کے دوسرے علاقوں میں یہ سفر مارچ کے مہینے میں جاری رہے گا۔ اور اب حیدرآباد سے بی بی سی کایہ قافلہ اپنی اگلی منزل خیر پور کی طرف روانہ تو ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد