BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 May, 2005, 03:54 GMT 08:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برف کے سائنسدان کون اور کیوں؟

برف کا تودہ
برف کا تودہ لاکھوں ٹن پانی سے بنتا ہے
سائنسدانوں نے کہا ہے کہ گرین لینڈ میں برف کی تہہ کے گھٹنے کے پریشان کن آثار ملے ہیں۔ (بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ شکمان نے گرین لینڈ میں موسم کے بارے میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کے ساتھ کچھ وقت گزارا)

برف میں دھنسے ہوئے ایک ٹینٹ کا تصور کریں جس کے اندر تیز ہواؤں کا شور سنائی دیتا ہو اور ایک چھوٹی سی کھڑکی سے ہلکی سی روشنی آ رہی ہو۔

ہم انتہائی شمال میں تھے۔

حقیقت کی جستجو
 سیاستدان اور ماہرین ماحولیات اکثر موسم کے بارے میں اندازے لگاتے رہتے ہیں لیکن قطب شمالی کی سردی میں کچھ سخت جان سائنسدان اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شکمان
پانچ امریکی سائنسدانوں سمیت ہم آٹھ لوگ ایک میز کے گرد بیٹھے تھے۔ ایک ہیٹر سخت سردی کا مقابلہ کر رہا تھا۔ اس رات درجہ حرارت منفی سترہ ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔

وائن کی ایک بوتل چکر لگاتی رہی اور کہانیوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

تھوڑی ہی دیر میں کافی پینے کا وقت ہو گیا اور میں حقیقت کی دنیا میں واپس آگیا۔

پروفیسر کونراڈ سٹیفن
پروفیسر کونراڈ سٹیفن
ہمارے میزبان نے کافی کے لیے ٹین کے ایک ڈبے میں ہاتھ ڈال کر برف نکالی اور چولہے پر پڑے برتن میں ڈال دی۔ یہاں پانی کا یہی ذریعہ ہے۔

یہ کوئی معمول کی محفل نہیں ہے۔ ہمارا پڑاؤ دنیا میں برف کے سب سے بڑے ٹکڑے پر ہے۔ میری کرسی برف کی ایک میل چوڑی تہہ پر رکھی ہے۔ ہمارے چاروں طرف ایک ہزار میل پر پھیلا برف کا ویرانہ ہے۔

نہ روشنی، نہ سڑک، نہ زندگی، صرف ہم۔

میرے ساتھ وہ شخص بیٹھا ہے جس نے پندرہ برس قبل تحقیق کے لیے یہ ٹھکانہ قائم کیا۔ طویل قامت پروفیسر کونراڈ سٹیفن کے حلیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے طویل عرصہ آرکٹک میں گزارا ہے۔ ان کے رفقاء کا کہنا ہے کہ وہ اتنے سخت جان ہیں کہ انہیں کبھی سردی نہیں محسوس ہوتی۔

سائنسدانوں کا کیمپ
سائنسدانوں کا کیمپ
پروفیسر سٹیفن یا ’کونی‘ کا مشن واضح ہے۔ وہ برف کے بارے میں بالکل درست اعداد و شمار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا شمار دوسروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تجزیہ کرنے والوں میں نہیں ہوتا۔

ایک بار انہوں نے چھ ماہ تک آرکٹک میں برف کا تجزیہ کیا۔ ایک اور مشن پر انہوں نے ایک سے زیادہ بار چوبیس گھنٹے مسلسل جاگ کر برف سے ٹکرا کر واپس جانے والی شمسی لہروں کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے کیے۔

ایک بار کونی کے ٹینٹ کے نیچے برف ٹوٹ کر گہرے سمندر کی طرف بہنے لگی۔ کونی اپنی برفانی گاڑی کے ذریعے اچھل کر واپس برف کی پناہ میں پہنچے۔

ہمیشہ سے تصور کیا جاتا رہا ہے کہ برف کی یہ تہہ اتنی سرد ہے کہ اس کو ہٹانے کے لیے سینکڑوں یا ہزاروں سال تک گرم موسم چاہیے ہوگا۔ لیکن تحقیق سے نئی باتیں سامنے آئی ہیں کہ گرمیوں کے چند ہفتوں میں برف کے ساحل کی طرف بہنے کی رفتار دوگنی ہو جاتی ہے۔

اس کے نتائج گھمبیر ہیں۔

جتنا موسم گرم ہوگا اتنی تیزی سے برف سمندر میں بہے گی اور دنیا بھر میں اس کی سطح بلند ہوگی۔

ہم ایک دن کے لیے گرین لینڈ آئے تھے لیکن موسم کی خرابی کے باعث چار روز تک وہاں سے نکل نہیں سکے۔

میں نے اس دورے کے دوران ایک سبق سیکھا۔ سیاستدان اور ماہرین ماحولیات اکثر موسم کے بارے میں اندازے لگاتے رہتے ہیں لیکن قطب شمالی کی سردی میں کچھ سخت جان سائنسدان اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد