آئس لینڈ ، آتش فشاں کی طاقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئس لینڈ میں ایک گلیشیر کے نیچے موجود آتش فشاں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے دھویں کے بادلوں نے پرواّزوں کو رخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ آتش فشاں پیر کو پھٹا تھا جس کے نتیجے میں راکھ اور کالا دھواں براعظم یورپ پر پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔ تب سےگرمزوان نامی یہ آتش فشاں مسلسل راکھ اور لاوا اگل رہا ہے۔ آتش فشاں میں ہونے والے دھماکوں سے راکھ ہوا میں چالیس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ اس آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ گلیشیر کے نیچے موجود ایک جھیل کی حالت میں تبدیلی بتائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق آتش فشاں کے غیر آباد علاقے میں واقع ہونے کی بنا پر آبادی اور لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ’وٹناجوکل‘ نامی گلیشیر کے نیچے پھٹنے والے آتش فشاں کی راکھ ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں گری ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔ آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق ہوا کے رخ میں تبدیلی سے راکھ کے بادل وسطی یورپ کی جانب بھی جا سکتے ہیں۔ راکھ کے ان بادلوں کی وجہ سے بحرالکاہل پر سے گزرنے والی پروازوں کے رخ تبدیل کر دیے گئے جبکہ آئس لینڈ کے شمالی علاقوں کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ گرمزوان آخری بار چھ سال پہلے 1999 میں پھٹا تھا۔ یہ آتش فشاں بحرالکاہل کے کنارے پر اس جگہ واقع ہے جہاں براعظم یورپ اور براعظم امریکہ ملتے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں مسلسل آتش فشانی سے آئس لینڈ کا ایک چوتھائی حصہ تباہ ہو گیا تھا اور سالوں تک فضامیں دھویں کے بادل چھائے رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||