BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 November, 2004, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئس لینڈ ، آتش فشاں کی طاقت
News image
آئس لینڈ میں کئی زندہ آتش فشاں موجود ہیں
آئس لینڈ میں ایک گلیشیر کے نیچے موجود آتش فشاں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے دھویں کے بادلوں نے پرواّزوں کو رخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ آتش فشاں پیر کو پھٹا تھا جس کے نتیجے میں راکھ اور کالا دھواں براعظم یورپ پر پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔

تب سےگرمزوان نامی یہ آتش فشاں مسلسل راکھ اور لاوا اگل رہا ہے۔ آتش فشاں میں ہونے والے دھماکوں سے راکھ ہوا میں چالیس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔

اس آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ گلیشیر کے نیچے موجود ایک جھیل کی حالت میں تبدیلی بتائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق آتش فشاں کے غیر آباد علاقے میں واقع ہونے کی بنا پر آبادی اور لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ’وٹناجوکل‘ نامی گلیشیر کے نیچے پھٹنے والے آتش فشاں کی راکھ ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں گری ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق ہوا کے رخ میں تبدیلی سے راکھ کے بادل وسطی یورپ کی جانب بھی جا سکتے ہیں۔

راکھ کے ان بادلوں کی وجہ سے بحرالکاہل پر سے گزرنے والی پروازوں کے رخ تبدیل کر دیے گئے جبکہ آئس لینڈ کے شمالی علاقوں کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

گرمزوان آخری بار چھ سال پہلے 1999 میں پھٹا تھا۔ یہ آتش فشاں بحرالکاہل کے کنارے پر اس جگہ واقع ہے جہاں براعظم یورپ اور براعظم امریکہ ملتے ہیں۔

اٹھارویں صدی میں مسلسل آتش فشانی سے آئس لینڈ کا ایک چوتھائی حصہ تباہ ہو گیا تھا اور سالوں تک فضامیں دھویں کے بادل چھائے رہے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد