قطب شمالی: برف میں ریکارڈ کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناسا کے سیٹلائٹ ریکارڈ سے ظاہر ہوا ہے کہ 1978 سے 2005 کے درمیان گزشتہ 23 کے دوران قطبِ شمالی میں برف کا رقبے اور تہہ کی موٹائی میں ریکاڈ کمی آئی ہے۔ سائنسی سرگرمیوں کے امریکی ادارے نے یہ تبدیلیاں 2004 اور 2005 کے درمیان ریکارڈ کی ہیں۔ اس ریکارڈ کے مطابق سارا سال رہنے والی برف کی تہہ نے ماضی کے مقابلے میں 14 فیصد جگہ چھوڑی ہے جو علاقے کے رقبے کے اعتبار سے پاکستان یا ترکی کے رقبے کے برابر ہے۔ اس سے پہلےکے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں کے دوران برف کی اس تہہ میں اعشاریہ سات فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ رپورٹ ’جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ قطبِ شمالی میں دررجۂ حرارت میں اضافہ عمومی عالمی درجۂ حرارت کے اوسط کا دوگنا رہا ہے۔ ان تحقیقی مطالعوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ نہ صرف اس رقبے میں کمی آئی ہے جس پر برف کی تہہ جمی ہوئی تھی بلکہ برف کی تہہ کی موٹائی میں بھی کمی آئی ہے۔ مطالعوں کے مطابق متعدد تہوں پر مشتمل تہہ تقریباً تین میٹر تک موٹی ہوتی ہے اور کم از کم ایک موسمِ گرما گزرنے تک ضرور موجود رہتی ہے۔ برف کی یہ تہہ عام برفباری سے جمنے والی اس تہہ سے مختلف ہوتی ہے جو قدرے آسانی سے پگھل جاتی ہے اور صرف ایک موسم موجود رہتی ہے۔ اس سے پہلے امریکی ریاست کولوراڈو میں واقع نیشنل سنو اور آئس ڈیٹا سینٹر کے ماہر مارک سیریزی نے انکشاف کیا تھا کہ ستمبر دو ہزار پانچ میں قطب شمالی کی برف میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے قطب شمالی میں بہت کم علاقے پر برف دیکھی گئی ہے اور گزشتہ چار سال کے دوران اس میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں قطب شمالی میں سب سے کم علاقے پر برف دیکھی جاتی ہے۔ لیکن اس سال جتنے کم علاقے پر برف دیکھی گئی ہے اتنے کم علاقے پر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ |
اسی بارے میں روسی سائنسدانوں کو بچا لیا گیا06 March, 2004 | آس پاس برف کے سائنسدان کون اور کیوں؟22 May, 2005 | نیٹ سائنس ’قطب شمالی پر تیل کی دوڑ‘23 August, 2005 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||