قطب شمالی کی برف میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ قطب شمالی کے برف سے ڈھکے ہوئے سمندر میں گزشتہ چار سال سے مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس ماہ جو علاقہ برف سے ڈھکا ہوا ہے گزشتہ ایک صدی میں کبھی اتنا کم علاقے پر برف نہیں دیکھی گئی ہے۔ قطب شمالی میں قدرتی طور پر برف کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے لیکن تحقیق دانوں کا خیال ہے انسان کے پیدا کردہ عوامل سے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافہ بھی قطب شمالی کی برف میں کمی کا کسی حد تک ذمہ دار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے سالوں میں قطب شمالی کی برف میں تیزی سے کمی واقع ہوسکتی ہے۔ امریکی ریاست کولوراڈو میں واقع نیشنل سنو اور آئس ڈیٹا سینٹر کے ماہر مارک سیریزی کا کہنا ہے کہ ستمبر دو ہزار پانچ میں قطب شمالی کی برف میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیلائٹ کے ذریعے قطب شمالی میں بہت کم علاقے پر برف دیکھی گئی ہے اور گزشتہ چار سالوں سے اس میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں قطب شمالی میں سب سے کم علاقے پر برف دیکھی جاتی ہے۔ لیکن اس سال جتنے کم علاقے پر برف دیکھی گئی ہے اتنے کم علاقے پر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
اس ماہ کی انیس تاریخ کو حاصل کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق تریپن لاکھ تیس ہزار مربع کلو میٹر یا بیس لاکھ ایک ہزار مربع میل کا علاقہ برف میں چھپا ہوا تھا جو کہ انیس سو اٹھہتر سے خلائی سیاورں کے ذریعے اکھٹے کیے جانے اعداو شمار میں سب سے کم ہے۔ یہ انیس سو اٹھہتر سے سن دو ہزار تک کے عرصے کی اوسط سے کم از کم بیس فیصد کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف پگھلنے کی موجود رفتار آٹھ فیصد فی دہائی ہے اور اگر اس رفتار سے برف پگھلتی رہی تو دو ہزار ساٹھ اس علاقے سے برف مکمل طور پر صاف ہوجائے گی۔ اس سنٹر کے تجزیے کے مطابق اس سال منجمد سمندر کا پھلاؤ انیس سو تیس اور چالیس کی دہائی میں برف میں جو کمی واقع ہوئی تھی اس سے بھی کم ہے۔ مارک سیریزی کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی عوامل کی وجہ سے عالمی ماحول میں تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی متنازع بات ہے اور اس سلسلے میں ہمیشہ کچھ غیر یقینی رہتی ہے کیونکہ ماحولیاتی نظام میں بہت سی قدرتی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور خاص طور پر قطب شمالی کے علاقے میں۔ ’ لیکن یہ ثبوت قوی سے قوی ہوتے جارہے ہیں کہ عالمی ماحول میں جو تبدیلیاں ہم دیکھ رہے ہیں وہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کے وجہ سے ہورہا ہے اور میں اس پر شرط لگانے کو تیار ہوں۔‘ تاہم یہ اعدادوشمار صرف برف کے پھیلاؤ تک محدود ہے اور یہ برف کی تہ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ قطب شمالی کے سروے کے برطانوی ادارے کے لز مورس کا کہنا ہے کہ برف سے ڈھکے ہوئے علاقے میں کمی کی ایک وجہ برف کا ایک جگہ جمع ہوجانا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ برف ایک جگہ اکھٹی ہو گئی ہو تو بھی برف کی کل مقدار اتنی ہی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ برف سمندر کے بھاؤ اور ہواؤں کے رخ میں تبدیلی کی بنا پر شمالی کینیڈا کے ساحلی علاقے کے ساتھ جمع ہورہی ہے۔ برف کی تہ کی موٹائی کے بارے میں زیادہ تر اعدادو شمار فوجی آبدوزوں سے حاصل ہوتا تھا جو کہ سرد جنگ کے زمانے میں قطب شمالی کے منجمد سمندر کے نیچے سے مسلسل راستے تلاش کرنے کی کوششیں کرتی رہتی تھیں۔ فوجی آبدوزیں سمندر کے نیچے سے گزر سکتی ہیں لیکن وہ ان ہی راستوں پر جاتی ہیں جو کئی دہائی پہلے دریافت کیے گئے تھے۔ پروفیسر مورس پورپین خلائی سیارہ کرائی سیٹ کے منصوبے سے بھی منسلک ہیں جو اس سال اکتوبر کی آٹھ تاریخ کو چھوڑا جائے گا اور قطب شمالی کی برف کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان سب باتوں کے باوجود مسلسل چار سال تک برف میں کمی کی خلاف توقع ہے۔ انہوں نے بھی اس بات سے کسی حد تک اتفاق کیا کہ عالمی درجہ حرارت میں انسانی کے پیدا کردہ عوامل کی وجہ سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کا اثر قطب شمالی کی برف پر بھی پڑا ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||