یورپ: برفانی مشن کو اجازت مل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی حدت کے متعلق تحقیق کرنے والے یورپ کے مشن کرائیوسیٹ کو جو گزشتہ سال بحیرہ آرکٹیک میں گر کر کھو گیا تھا دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی ای ایس اے نے پچانوے ملین پاؤنڈ کی لاگت سے کرائیوسیٹ کی نقل بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کرائیوسیٹ لانچ کے لیے تقریباً تین سال میں تیار ہو گا۔ یہ مشن اس بات کی تحقیق کرے گا کہ زمین پر برف کی تہیں کس طرح ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہی ہیں اور کئی جگہ سے کافی پتلی ہو گئی ہیں۔ مشن میں شامل برطانوی سائنسدان کا کہنا ہے کہ کرائیوسیٹ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
بی بی سی نیوز ویب سائٹ پر اپنے ایک مضمون میں یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر ڈنکن ونگھم لکھتے ہیں کہ اس مشن میں شامل سب افراد کو اس بات کو لازمی بنانے کے لیے کہ کرائیوسیٹ 2 اپنے آپ کو ثابت کر دکھائے یقیناً اپنی چھوٹی یا بڑی شرکت پر فخر ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ ہی ایک عزت کی بات ہے کہ ’ہمارے اس چھوٹے مشن کو اتنی حمایت ملی ہے‘۔ گزشتہ اکتوبر ای ایس اے کا تحقیقاتی مشن شمالی روس سے لانچ کے فوراً بعد ہی بحیرہ آرکٹیک میں گر کر گم ہو گیا تھا۔ دنیا کے چند بڑے سائنسدانوں نے کرائیوسیٹ 2 کی بھرپور حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی مدد سے زمین پر ماحولیاتی تبدیلی کو سمجھنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں گیسوں کی مقدار میں تاریخی اضافہ25 November, 2005 | نیٹ سائنس انٹارکٹیکا میں تودوں کا تصادم 20 April, 2005 | نیٹ سائنس ہمالیہ کی برف کم، کروڑوں خطرے میں 14 March, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||