BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 April, 2005, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹارکٹیکا میں تودوں کا تصادم
انٹارکٹیکا
تصادم کے نتیجے میں ڈرائیگالسکی کا ایک پانچ کلو میٹر ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔
انٹارکٹیکا میں لکسمبرگ کے مساوی حجم کا ایک تودہ ایک چٹان سے ٹکرایا ہے جس کے نتیجے میں چٹان کا ایک پانچ کلو میٹر کا ٹکڑا الگ ہو کر سمندر میں چلا گیا ہے۔

بی 15 اے نامی اس ایک سو پندرہ کلو میٹر طویل تودے سے تصادم ڈرائیگالسکی نامی گزرگاہی چٹان سے ہوا، جس کے نتیجے میں ڈرائیگالسکی کا ایک پانچ کلو میٹر حجم کا مخروطی ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہوا اور واپس بحرِ روص میں چلا گیا۔ تاہم اس تصادم سے بی 15 اے کو کوئی نقصان پہنچا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متصادم مخروطی چٹان ڈرائیگالسکی کا مخروطی حصہ اب بھی گزرگاہ میں باہر کی طرف نکلا ہوا ہے اور بی 15 اے کے مزید حصے جب اس گزریں گے تو اس مخروطی حصے کو مزید تصادموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یورپی خلائی ایجنسی کے ارضی جائزہ پلیٹ فارم اینویساٹ نے اس تصادم کی نایاب تصاویر محفوظ کی ہیں۔

بحرِ روص کے موکمرڈو ساؤنڈ نامی حصے میں ڈرائیگالسکی کا مخروطی ٹکڑا ستر کلومیٹر نکلا ہوا ہے اور سائنسدانوں نے اس ہونے والے تصادم ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔

بی 15 اے کا رقبہ 25 سو مربع کلومیٹر سے زائد ہے اور اس کا ابھی قدرے بڑا حصہ ابھی بی 15 کہلانے والی ڈرائیگالسکی سے گزرے گا اور امکان ہے کہ اس کے نتیجے میں مارچ 2000 میں روص کی برفانی تہوں سے الگ ہونے والی اس مخروطی چٹان کا مزید نقصان اٹھانا پڑے۔

خود ڈرائیگالسکی کا 11 ہزار چھ سو پچپن مربع کلو میٹر یا جمیکا کے مساوی ہے لیکن تصادموں کے نتیجے میں مسلسل چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد