انٹارٹیکا: امریکی سڑک پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمالیہ کی چوٹی ایورسٹ سر کرنے والے پہلے کوہ پیما ایڈمنڈ ہلری نے انٹارٹیکا میں سڑک بنانے کے امریکی اور برطانوی منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹارٹِک میں سڑک بنانے کا فیصلہ ’برا‘ ہے۔ انٹارٹیکا کے بیچوں بیچ بنائی جانے والی یہ سڑک آدھی مکمل ہوگئی ہے اور اس سے قطب جنوبی تک جانے کا دوسرا راستہ کھل جائے گا۔ ابھی صرف طیاروں کے ذریعے ہی وہاں جایا جاسکتا ہے۔ سر ایڈمنڈ ہلری نے کہا کہ اس برفیلی سڑک سے قطب جنوبی کے سفر کا مزہ ختم ہوجائے گا۔ ایڈمنڈ ہلری چھیالیس سال قبل وہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے اخبار ڈومینین پوسٹ کو بتایا: ’میں اس کے سخت خلاف ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں ابھی بھی طیاروں کا ہی استعمال کرنا چاہئے جیسا کہ وہ برسوں سے کرتے رہے ہیں۔‘ ایڈمنڈ ہلری نے برطانوی حکومت پر اس بات کے لیے بھی تنقید کی کہ وہ انٹارٹیکا پر ان تاریخی جھونپڑیوں کو نظرانداز کررہی ہے جن کا استعمال برطانیہ کے رابرٹ فالکن سکاٹ اور دوسرے کوہ پیماؤں نے کیا تھا۔ رابرٹ فالکن سکاٹ انیس سو بارہ میں قطب جنوبی سے واپسی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ گزشتہ جولائی میں نیوزی لینڈ نے برطانیہ سے اپیل کی تھی کہ وہ ان جھونپڑیوں کی حفاظت میں مالی امداد کرے۔ ایڈمنڈ ہلری ان دنوں انٹارٹیکا میں ہیں جہاں وہ پچیس سال قبل ہونے والے فضائی حادثے کی یاد منانے گئے ہیں۔ پچیس سال قبل ایئر نیوزی لینڈ کا طیارہ انٹارٹیکا میں گرکر تباہ ہوگیا تھا اور اس پر سوار دو سو ستاون افراد مارے گئے تھے۔ نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہلری اور نیپال کے شیرپا تینزِنگ نورگے پہلے کوہ پیما تھے جو انیس سو ترپن میں ہمالیہ کی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر پہنچنے میں کامیاب رہے لیکن واپسی کے راستے میں تینزِنگ نورگے ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||