| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایورسٹ ناپنے والا ہندوستانی
یہ بات راج برطانیہ کے زمانے کی ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ بات سن اٹھارہ سو باون کی ہے جب ہندوستان پر تاج برطانیہ کی حکومت تھی کہ ایک روز شمالی پہاڑی قصبے دہرہ دون کے ایک دفتر میں ایک نوجوان بھاگتا ہوا داخل ہوا اور اپنے افسر کے سامنے جاکر چلایا ’جناب۔۔۔میں نے دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی دریافت کرلی ہے۔‘ اعدادوشمار کو قابل فہم بنانے کے لئے قریباً چار برس پر مشتمل محنت شاقّہ میں جٹے رہنے کے بعد رادھاناتھ سکدھر اس قابل ہوئے کہ سلسلۂ کوہ ہمالیہ کی اس پندھرویں برفانی چوٹی کی اونچائی معلوم کرسکیں۔ اسی بلند ترین پہاڑ کو بعد میں ماؤنٹ ایورسٹ کا نام دیا گیا جو دراصل اس وقت کے محکمۂ مساحت (سروے ڈپارٹمنٹ) کے اعلیٰ ترین معائنہ کار (سرویئر جنرل) سر جارج ایورسٹ سے منسوب کیا گیا تھا جنہوں نے اس پہاڑ کی انتیس ہزار دو فٹ یا آٹھ ہزار آٹھ سو چالیس میٹر اونچائی کو سر کیا۔ سکدھر کا یہ کارنامہ، جس کے بارے میں بہت سے بھارتیوں کو معلوم ہی نہیں، ان دنوں لندن کے علاقے برک لین میں جاری ایک عظیم نمائش کا حصہ ہے۔ بھارتی حکومت کے تعاون سے جاری یہ نمائش برصغیر کی نقشہ بندی کے دو سو برس مکمل ہونے پر لگائی گئی ہے۔ برصغیر کی نقشہ بندی کے اس کام کا آغاز جسے ’علمی تاریخ کا سب سے عظیم ترین اور حیران کن کارنامہ‘ قرار دیا گیا سن اٹھارہ سو دو میں مدراس میں تعینات برطانوی فوج کے ایک افسر ولیم لیمبٹن نے کیا تھا۔ اس سروے میں بعد میں ہزاروں ہندوستانیوں نے حصہ لیا اور سن اٹھارہ سو انیس میں سروے کی اس کام کو عظیم مثلثیاتی (علم ریاضی یا حساب دانی کا وہ شعبہ جو تکون زاویوں سے متعلق ہو) کا نام دیا گیا۔ اس کام کے ذریعے سولہ سو میل رقبہ کے نقشے بنائے گئے جن کی تکمیل کے دوران بےشمار لوگ لقمۂ اجل بنے۔ زیادہ تر ہلاکتیں چیتوں یا ملیریا کے وبائی مرض کی وجہ سے ہوئیں۔ انتالیس سالہ سکدھر، جنہوں نے چوٹی کی اونچائی معلوم کرلینے کا کارنامہ انجام دیا ان چند لوگوں میں سے ہی ایک تھے جو اس دشوار گزار کام میں زندہ بچ سکے۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والے سکدھر جو اس وقت سروے کرنے والے مختلف دستوں کے جمع کئے ہوئے اعداد و شمار کے حساب کتاب لگایا کرتے تھے، اس وقت محکمے میں ’کمپیوٹر‘ کے عہدے پر تعینات تھے بعد ازاں انہیں ان کی اچھی خدمات کے صلے میں ’چیف کمپیوٹر‘ کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اس موضوع پر دو کتابیں تخلیق کرنے والے برطانوی مؤرخ جان کے نے بی بی سی کو بتایا کہ سکدھر جس کام میں منہمک تھے، اسے انجام دینے کے لئے علم ریاضی یا حساب دانی پر دسترس ضروری تھی اور محکمے کے سربراہ سر جارج ایورسٹ نے سکدھر کو ’غیر معمولی قابلیت کا حامل (جینیئس) ریاضی داں‘ قرار دیا تھا۔ برطانوی مؤرخ جان کے کا کہنا ہے کہ ’سر جارج ایورسٹ کی طرح ہی ممکن ہے کہ سکدھر نے بھی کبھی خود پہاڑ کی یہ چوٹی نہ دیکھی ہو۔‘ سن اٹھارہ سو سینتالیس میں جب سروے کرنے والوں نے پہلی بار دارجلنگ کے مقام سے اس چوٹی کا نظارہ کیا ہو تب شاید اسے ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے اونچے مقام کے برابر اونچائی یا چوٹی قرار دیا گیا ہو۔ تاہم اٹھارہ سو چھپّن تک، جب تک ان اعداد وشمار و معلومات کا حساب کئی بار پھر نہ کرلیا گیا، اس کا باقاعدہ سرکاری اعلان نہیں کیا گیا کہ یہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ سکدھر، کلکتّہ کے قدیم شہر جوروسانکو کے ایک بنگالی برہمن کے گھر اکتوبر سن اٹھارہ سو تیرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے شہر کے مشہور ’ہندو کالج‘ سے علم ریاضی کی تعلیم حاصل کی اور انہیں تھوڑی بہت شدھ بدھ انگریزی زبان کی بھی تھی۔ کام میں جٹے رہنے والے سکدھر نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ ان کے افسر سر جارج نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔ انیس سو پچپن میں ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی کی اونچائی میں چھبیس فٹ کا اضافہ ہوا، اور یہ بڑھ کر انتیس ہزار اٹھائیس فٹ ہوگئی۔ انیس سن ننانوے میں اس کی اونچائی مزید سات فٹ اونچی ناپی گئی۔ آج دنیا کی اونچی ترین چوٹی انتیس ہزار پینتیس فٹ اونچی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||