انٹارٹیکا : پینگونز کو قحط کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کا کہنا ہے کہ’انٹارٹک میں ایک برف کے تودے کی نقل و حرکت پینگونز کی خوراک تک رسائی کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ننھے بچے فاقوں کا شکار ہو جائیں گے‘۔ نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ’ آنے والے ہفتوں میں کیپ روئڈز پر موجود پینگونز کو اپنے ننھے بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے لیے 180 مربع کلومیٹر (112 میل) کا اضافی چکر لگانا پڑے گا‘۔ سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ’پینگونز کی بستی تو یقیناً قائم رہے گی لیکن اس وجہ سے زیادہ تر بچے موت کا شکار ہو سکتے ہیں‘۔ سائنسدانوں نے کہا کہ ’یہ آئس برگ دنیا میں تیرنے والی سب سے بڑی چیز ہے‘۔ انٹارٹکا نیوزی لینڈ ایجنسی کے سربراہ لُو سانسن کا کہنا ہے کہ’3000 مربع کلومیٹر ( 1200مربع میل ) پر پھیلا ہوا یہ آئس برگ جو B-15A کے نام سے جانا جاتا ہے علاقے میں موجود تین سائنس سٹیشنز تک سمندر کی رسائی کو بھی روک سکتا ہے‘۔ مسٹر سانسن نے پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ’ کیپ روئڈز پر موجود ’اڈیلی پینگونز‘ کی اس بستی کے تقریباً 3000 جوڑوں کو اپنے ننھے بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے لیے بڑے ہی لمبے اور تھکا دینے والے سفر کا سامنا ہے۔اور جب تک ایک پینگون چکر کاٹ کے واپس آتا ہے وہ ساری خوراک خود ہی استعمال کر چکا ہوتا ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ پینگونز پر تفتیش کرنے والی ٹیم نے کہا ہے کہ ان جانوروں کی سالانہ افزئش یقینی طور پر ناکام ہو جائے گی‘۔ سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کیپ برڈ پر موجود پینگونز کی ایک اور بستی بھی B-15A کا شکار ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا نے کہ’ آئس برگ ہر روز 2 کلومیٹر(1.2 میل) کی رفتار سے بہہ رہا ہے اور پہلے ہی ’میکموردو ساؤنڈ‘ کی جانب سے برف کے بہاؤ کو روک چکا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||