BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 17:57 GMT 22:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماحولیاتی تبدیلی سلامتی کیلیے خطرہ
کوفی عنان
کوفی عنان نے اپنے خطاب میں سخت الفاظ استعمال کیے
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے نیروبی میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران عالمی حدت کے مسئلے کے حل میں ناکامی کو قیادت کے بحران سے تعبیر کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کوفی عنان نے بدھ کے روز ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے اپنے آخری بڑے اجلاس سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے نا صرف اقوامِ متحدہ کی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کیا بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے والے ممالک پر تنقید کا بھی دو ٹوک انداز اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔

انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بارش ہونے میں تبدیلی سے وسائل کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے جس کے باعث عدمِ استحکام پیدا کرنے والے تناؤ اور ہجرت کو فروغ مل سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام موسمی تبدیلیوں کے اثرات پر بحث کے لیے اس اجلاس کا اعلیٰ سطحی دور بدھ سے شروع ہوا جس میں ایک سو سے زائد ممالک کے وزراء اور چھ ہزار سے زائد ماہرین نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں اقوامِ متحدہ نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو انسانی مستقبل کو درپیش اہم خطرات کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اس ضمن میں سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے۔ بین الاقوامی موسمیات کو غربت، جنگی تنازعات اور جان لیوا ہتھیاروں جیسے خطرات کے ساتھ جگہ ملنی چاہیئے تاکہ اس مسئلے کو بھی اولین سیاسی توجہ مل سکے‘۔

کوفی عنان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر چند ایک لوگوں کی شک پرست سیاست کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں انسان کو تباہی کے دہانے کی جانب لے جا

تشکیک
 چند انتہا پسند شکی مزاج لوگ عالمی حدت سے لگا تار انکار کرتے چلے آئے ہیں اور ان کی یہی کوشش ہے کہ وہ دوسروں کے دلوں میں بھی شک پیدا کریں۔
کوفی عنان
رہی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب اس تباہی کا سدباب کرنے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔

کوفی عنان نے کہا کہ ’چند انتہا پسند شکی مزاج لوگ عالمی حدت سے لگا تار انکار کرتے چلے آئے ہیں اور ان کی یہی کوشش ہے کہ وہ دوسروں کے دلوں میں بھی شک پیدا کریں۔ درحقیقت یہ لوگ وقت کی چال سے لاعلم ہیں اور ان کا مؤقف انتہائی کمزور ہے‘۔

انسانی سرگرمیوں کے موسم پر منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی معاہدہ، کیوٹو پروٹوکول، یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت بیشتر ممالک منظور کر چکے ہیں لیکن امریکہ اور آسٹریلیا اس معاہدے کے دو بڑے مخالفین ہیں۔

ان دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدے کے مطابق گیسوں کے اخراج کے لیے محدود کوٹہ، ملکی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنی صنعت کو جدید آلات سے آرستہ کر سکیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ نے افریقی ممالک کو محفوظ ماحول سے متعلق سرگرمیوں سے بعض رکھنے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔

کوفی عنان نے افریقہ میں ماحول کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چھ مختلف ادارے مل کر افریقہ میں ایسے منصوبوں کا آغاز کریں گے جن سے ماحول کو پاک رکھنے میں مدد مل سکے گی۔

اسی بارے میں
’ماحول کیلیے فنڈ بڑھائیں‘
06 August, 2006 | نیٹ سائنس
سطح سمندر کی بلندی تباہ کن
24 March, 2006 | نیٹ سائنس
2005: شمال میں گرم ترین سال
15 December, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد