ماحولیاتی تبدیلی سلامتی کیلیے خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے نیروبی میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران عالمی حدت کے مسئلے کے حل میں ناکامی کو قیادت کے بحران سے تعبیر کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کوفی عنان نے بدھ کے روز ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے اپنے آخری بڑے اجلاس سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے نا صرف اقوامِ متحدہ کی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کیا بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے والے ممالک پر تنقید کا بھی دو ٹوک انداز اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بارش ہونے میں تبدیلی سے وسائل کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے جس کے باعث عدمِ استحکام پیدا کرنے والے تناؤ اور ہجرت کو فروغ مل سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام موسمی تبدیلیوں کے اثرات پر بحث کے لیے اس اجلاس کا اعلیٰ سطحی دور بدھ سے شروع ہوا جس میں ایک سو سے زائد ممالک کے وزراء اور چھ ہزار سے زائد ماہرین نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں اقوامِ متحدہ نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو انسانی مستقبل کو درپیش اہم خطرات کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اس ضمن میں سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے۔ بین الاقوامی موسمیات کو غربت، جنگی تنازعات اور جان لیوا ہتھیاروں جیسے خطرات کے ساتھ جگہ ملنی چاہیئے تاکہ اس مسئلے کو بھی اولین سیاسی توجہ مل سکے‘۔ کوفی عنان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر چند ایک لوگوں کی شک پرست سیاست کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں انسان کو تباہی کے دہانے کی جانب لے جا
کوفی عنان نے کہا کہ ’چند انتہا پسند شکی مزاج لوگ عالمی حدت سے لگا تار انکار کرتے چلے آئے ہیں اور ان کی یہی کوشش ہے کہ وہ دوسروں کے دلوں میں بھی شک پیدا کریں۔ درحقیقت یہ لوگ وقت کی چال سے لاعلم ہیں اور ان کا مؤقف انتہائی کمزور ہے‘۔ انسانی سرگرمیوں کے موسم پر منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی معاہدہ، کیوٹو پروٹوکول، یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت بیشتر ممالک منظور کر چکے ہیں لیکن امریکہ اور آسٹریلیا اس معاہدے کے دو بڑے مخالفین ہیں۔ ان دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدے کے مطابق گیسوں کے اخراج کے لیے محدود کوٹہ، ملکی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنی صنعت کو جدید آلات سے آرستہ کر سکیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ نے افریقی ممالک کو محفوظ ماحول سے متعلق سرگرمیوں سے بعض رکھنے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔ کوفی عنان نے افریقہ میں ماحول کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چھ مختلف ادارے مل کر افریقہ میں ایسے منصوبوں کا آغاز کریں گے جن سے ماحول کو پاک رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ | اسی بارے میں ’ماحول کیلیے فنڈ بڑھائیں‘06 August, 2006 | نیٹ سائنس آلودگی میں کمی، حدت میں اضافہ08 April, 2006 | نیٹ سائنس سطح سمندر کی بلندی تباہ کن24 March, 2006 | نیٹ سائنس ’ہزار برس بعد اتنی گرمی ہوئی ہے‘10 February, 2006 | نیٹ سائنس نجی کمپنیاں کردار ادا کریں: امریکہ11 January, 2006 | نیٹ سائنس 2005: شمال میں گرم ترین سال 15 December, 2005 | نیٹ سائنس مونٹریال کانفرنس: امریکہ کی آمادگی11 December, 2005 | نیٹ سائنس ماحولیاتی کانفرنس حتمی مرحلے میں07 December, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||