آلودگی میں کمی، حدت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لگتا ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ آلودگی میں کمی اور آبی بخارات میں اضافے سے ہو رہا ہے۔ یورپی سائنس کی ایک بڑی میٹنگ میں پیش کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق میں ایک بار پھر اس بات کے شواہد منظر عام پر آئے ہیں کہ فضا کے زیادہ صاف ہو جانے سے سطح زمین پر پہنچنے والی سورج کی حدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کچھ دوسری تحقیقات کے مطابق فضا میں آبی بخارات میں اضافے کی وجہ سے انسانوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا دو رجحانات کی وجہ سے عالمی حدت میں توقع سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ 1950 اور 1980 کے درمیانی عشروں میں زمین تک پہچنے والی شمسی توانائی میں دو فیصد فی عشرہ کی کمی ہوتی رہی ہے۔ اس رجحان کو ’گلوبل ڈمنگ‘ (عالمی حدت میں بتدریج کمی) کے نام سے کچھ شہرت بھی ملی لیکن گزشتہ سال شائع ہونے والی دو سائنسی تحقیقات کے مطابق 1980 میں یہ عمل الٹا ہو گیا تھا۔ اس کمی کا سبب 1980 کے عشرے میں سوویت یونین کی صنعتی پیداوار میں کمی اور یورپ میں فضائی آلودگی کے خلاف سخت قوانین کے اطلاق کی وجہ سے فضا میں بحیثیت مجموعی ایروسول نامی ذرات میں کمی کو بتایا گیا تھا۔ اس ہفتہ پیش کی جانے والی دو سائنسی تحقیقات میں سے ایک کے روح رواں زیورخ (سوٹزر لینڈ) میں واقع ایک ادارے کی کے ڈاکٹر مارٹن وائلڈ نامی سائنسدان تھے۔ ان کے مطابچ مندجہ بالا دو عوامل کی وجہ سے 1980 میں کچھ سائنسی حلقوں میں یہ کہا جانے لگا تھا کہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے سے فضا کو کوئی خطرہ نہیں رہا اور یہ کہ عالمی حدت میں اضافے کے خلاف مزید اقدامات کی ضرورت نہیں رہی۔
ڈاکٹرمارٹن وائلڈ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شاید 1980 کے عشرے میں ’گلوبل ڈمنگ‘ اور گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے عالمی حدت میں اضافے نے ایک دوسرے کو رد کر دیا ہو اور اس کے نتیجے میں عامی حدت میں اضافہ رک گیا ہو لیکن اب فضا میں آلودگی میں کمی کی وجہ سے سورج کی روشنی زمین پر زیادہ مقدار میں پہنچ رہی ہے جس سے حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی سے ایک گفتگو کے دوران ڈاکٹر وائلڈ نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ خیال ہمیشہ موجود رہا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کی وجہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کی بجائے سورج کی اپنی حدت میں تبدیلی ہے۔ ’ لیکن جب 1980 میں گلوبل ڈِمنگ کے دوران زمین پر درجہ حرارت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تو ہمیں گرین ہاؤس گیسوں کے اپنے اثرات کے مطالعے کا صحیح موقع ملا جس سے یہ خیال تقویت پکڑ گیا کہ عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سورج کی اپنی حدت ہے نہ کہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ۔‘
ڈاکٹر وائلڈ نے مزید کہا کہ ان کا یہ کہنا اپنی جگہ کہ عالمی حدت میں اضافہ کی وجہ فضائی آلودگی میں کمی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ کرہ زمین پر بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں کے بارے میں ہمارے پاس کوئی شواہد نہیں ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔‘ اس ہفتے پیش کی جانے والی دوسری تحقیق کرنے والے سائنسدان رالف فلپونا کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کی دوسرے وجہ آْبی بخارات میں اضافہ ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ میں حدت میں اضافے کی وجہ فضا میں آبی بخارات یا ہوا میں نمی میں اضافہ ہے۔ رالف فلپونا کے مطابق دراصل ہوتا یہ ہے کہ گرین ہاؤں گیسوں میں اضافے کی وجہ سے زمین اور اس کی فضا میں موجود پانی تیزی سے بخارات میں بدل جاتا ہے اور حدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔یوں ان کے مطابق عالمی حدت میں اس اضافے کا بڑا سبب آبی بخارات میں اضافہ ہے جبکہ مین پر سورج کی روشنی میں کمی بیشی کا اس کا چھوٹا سبب ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں سطح سمندر کی بلندی تباہ کن24 March, 2006 | نیٹ سائنس کاربن ڈائی آکسائڈ مقدار میں اضافہ 31 March, 2005 | نیٹ سائنس ماحولیاتی کانفرنس حتمی مرحلے میں07 December, 2005 | نیٹ سائنس نجی کمپنیاں کردار ادا کریں: امریکہ11 January, 2006 | نیٹ سائنس ’ہزار برس بعد اتنی گرمی ہوئی ہے‘10 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||