سطح سمندر کی بلندی تباہ کن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی تحقیق کے مطابق کرہ ارض اگلی چند صدیوں میں سطح سمندر کی خطرناک حد تک بلندی کے باعث تباہی کا شکار ہوسکتا ہے۔ سطح سمندر گرین ہاؤس گیسوں کے تیز رفتار اخراج کے باعث بلندی کی طرف مائل ہے اور اگر گرین ہاؤس گیسیں اسی رفتار سے خارج ہوتی رہیں تو اس صدی کے اختتام تک ہی سطح سمندر کئی میٹر تک بلند ہوجائے گی۔ امریکی جریدے جنرل سائنس کے مطابق عالمی حدت کی وجہ سے گرین لینڈ کا درجہ حرارت 2100 تک اتنا بڑھ جائے گا جیسا کہ 130000 سال پہلے برف کے دور میں ہوا تھا اور جس سے برف پگھلنے کے باعث سطح سمندر تین سے چار میٹر تک بلند ہوگئی تھی۔ یہ تحقیق ایریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن اوورپیک اور ساتھیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 500 سال میں مغربی انٹارکٹک کی پچاس فیصد برفانی تہہ پگھل جائے گی۔ پروفیسر جوناتھن نے کمپیوٹر کے ذریعے 130000 برس قبل ہونے والے موسمیاتی تغیر کا ماڈل پیش کیا ہے جس کے ذریعے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سمندری سطح کو چند میٹر تک بلند ہونے کے لیئے کتنے درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی کے تغیرات کا سائنسدانوں نے آج کی صورتحال سے موازنہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سمندر کی سطح مستقبل میں کتنی بڑھ سکتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ ایک صدی میں سطح سمندر ایک میٹر بڑھے گی۔ پروفیسر جوناتھن کا کہنا ہے کہ گرم گیسوں کے اخراج سے برف پگھلنے کا عمل زمین کو خطرناک زون میں لے جاسکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گلیشیئرز کی اچانک حرکات و سکنات سے زلزلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں نئے سمندر کے جنم کے امکانات09 December, 2005 | نیٹ سائنس سنٹرل لندن میں وہیل20 January, 2006 | نیٹ سائنس سطح سمندر بڑھنے کی رفتار تیز27 January, 2006 | نیٹ سائنس امریکہ کی جاسوس شارک03 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||