سطح سمندر بڑھنے کی رفتار تیز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سطح سمندر میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو اس صدی کے آخر تک سطح سمندر تیس سینٹی میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ آسٹریلوی سائنسدانوں نے تحقیق کی ہے کہ 1870 سے 2004 تک کے عرصے کے دوران سطح سمندر میں 5ء19 سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس رجحان میں آخری پچاس سالوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ تحقیق ’جیو فیزیکل ریسرچ لیٹرز‘ جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس کے لیے دنیا بھر سے لہروں کی پیمائش کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ تحقیق ’انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘ کی پشین گوئی کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ آئی پی سی سی کی 2001 میں چھپنے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 1990 سے 2100 کے عرصہ کے درمیان سطح سمندر میں 9 سے 88 سینٹی میٹر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس پیش گوئی میں پائے جانے والے غیر یقینی عنصر میں کمی کے لیے 1870 تک کے اعداد و شمار استعمال میں لائے گئے ہیں جن سے یہ پتہ چلا ہے کہ سمندروں کی سطح نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ اس اضافے کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران سطح سمندر میں اضافے کی اوسط 44ء1 ملی میٹر سالانہ ریکارڈ کی گئی۔ بیسویں صدی میں یہ اوسط سالانہ 7ء1 ملی میٹر رہی جبکہ 1950 کے بعد والے پچاس سالوں کے دوران سطح سمندر میں اضافہ کی اوسط 75ء1 ملی میٹر سالانہ رہی۔ اگرچہ ماحولیات کے ماڈل بھی اس اضافہ کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ پہلی دفعہ تاریخی اعداد و شمار کے ذریعے اس رجحان کو ثابت کیا گیا ہے۔
اس تحقیق میں شریک سائنس دان ڈاکٹر جان چرچ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سمندروں کی سطح میں اضافے سے کئی علاقوں پر شدید اثرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ کم بلندی والے علاقوں میں سمندری طوفان کی صورت میں زیادہ سیلاب آئیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ ساحلی علاقوں میں سمندر زیادہ ریت کو بہا کر لے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جزیروں میں بسنے والی قوموں کو زیادہ سیلابوں کا سامنا کرنا ہو گا‘۔ اس معاملے پر ماحولیاتی سائنس دانوں کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ سطح سمندر میں اضافے کی وجہ گرین ہاؤس گیسیں ہیں جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈز سرفہرست ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے نہ صرف سمندر کا پانی پھیلتا ہے بلکہ برف کے گلیشئیر زیادہ مقدار میں پگھلتے ہیں جس سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماحولیات کے متعلق 1997 کے معاہدے ’کیوٹو پروٹوکول‘ کے مطابق صنعتی ملکوں کو 2008 سے 2012 کے درمیان آلودگی کی مقدار کو 1990 کی مقدار سے پانچ فیصد کم کرنا ہو گا۔ لیکن امریکہ اور آسٹریلیا اس معاہدے سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر چرچ نے اس بارے میں کہا کہ ’ہمیں آلودگی اور حدت کو کم کرنا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ ماحول میں تبدیلی ہو رہی ہے اور ہمیں اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا‘۔ |
اسی بارے میں نجی کمپنیاں کردار ادا کریں: امریکہ11 January, 2006 | نیٹ سائنس ہمالیہ کو بچانےکی اپیل10 July, 2005 | نیٹ سائنس دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے27 January, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||