BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 August, 2006, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ماحول کیلیے فنڈ بڑھائیں‘
توانائی کی طلب میں اضافے کے ساتھ عالمی حدت میں بھی تیزی آ رہی ہے
عالمی رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے نئی انرجی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مزید رقومات مختص کریں۔

رائل سوسائٹی کے صدر لارڈ مارٹن ریز نے امریکی رسالے سائنس کو بتایا کہ وہ سرکاری فنڈنگ کی مدد سے ایک بین الاقوامی ریسرچ پروگرام شروع کرنا چاہتے ہیں۔

لارڈ مارٹن کا کہنا تھا کہ روس میں جی ایٹ ممالک کی حالیہ کانفرنس میں ان ممالک کے انرجی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم مختص کرنے کے وعدے پر عمل در آمد ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں کے اس مسئلے پر کیے گئے وعدے کی تکمیل نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ ہونے والی جی ایٹ کانفرنس میں توانائی کا تحفظ ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آیا تھا۔

ان یہ بھی کا کہنا تھا کہ اس وقت فوری چیلنج توانائی کی عالمی طلب کو پورا کرنا اور گرین ہاؤس گیس کے اخراج سے ماحولیات پر اس کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے بہت کچھ کیا جائے جو اس وقت نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ مختلف طریقہ کار جیسے کاربن ٹیکسوں کی مدد سے تحقیق کے لیے رقم حاصل کی جاسکتی ہے اور ابتدائی طور پر یہ ٹیکس ان ممالک پر لگائے جائیں جہاں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

1980 سے دنیا بھر میں توانائی کی تحقیق کے لیے پبلک فنڈنگ میں تقریبا نصف کمی کی گئی ہے اور برطانیہ میں انرجی ریسرچ کے لیے رقم کا دسواں حصہ خرچ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ اقدامات تو اٹھائے ہیں لیکن تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ابھی مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ دنیا میں اس وقت توانائی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو ا س کے ساتھ ہی ترقی پزیر ملکوں جیسے انڈیا، چین میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح بھی اتنی ہی تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے عندیہ دیا ہے کہ 2030 تک توانائی کی عالمی طلب میں 50 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد