BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 December, 2005, 19:42 GMT 00:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2005: شمال میں گرم ترین سال
ماحولیاتی کانفرنس میں آلودگی کے خلاف ہونے والا مظاہرہ
’ہم صحیح ہیں اور اس پر شک کرنے والے غلط‘
برطانیہ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سال شمالی کرۂ ارض کا گرم ترین سال تھا۔

سن 1860 میں ریکارڈ کے مرتب کیے جانے کے بعد یہ سال سارے کرۂ ارض کے لیے دوسرا گرم ترین سال رہا۔

شمالی کرہ میں سمندروں کا درجہ حرارت بھی تاریخ میں سب سے زیادہ رہا۔

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات اور ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ انسان کے طرز زندگی کی وجہ سے بڑھنے والی عالمی حدت کا ایک اور ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کرہ میں سال 2005 کا اوسط درجہ حرارت 1961 سے 1990 کے روایتی عرصہ کے اوسط درجہ حرارت سے 65ء0 ڈگری سنٹی گریڈ زیادہ رہا۔

پوری دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں 48ء0 ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے جس سے یہ سال 1998 کے بعد دوسرا گرم ترین سال بن گیا ہے۔

کرۂ ارض کے شمالی حصہ کا درجہ حرارت جنوبی حصے کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس میں گزشتہ دس سالوں میں تقریباً 4ء0 ڈگری کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اس سلسلے میں اینگلیا یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ’اعدادو شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شمال میں سطح سمندر کا درجہ حرارت 1880 کے بعد سب سے زیادہ ہے‘۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کی کوئی پیمائش بھی غلطیوں کے خدشے سے خالی نہیں ہے اور اس میں 1ء0 ڈگری کا فرق آ سکتا ہے۔ لیکن یہ بات واضع ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں مجموعی رجحان تیزی سے اضافے کی جانب مائل ہے جس کی ایک وجہ انسان کی پھیلائی ہوئی حدت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم صحیح ہیں اور اس پر شک کرنے والے غلط‘۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سادہ طبعیات کا معاملہ ہے۔ اگر گیسیں زیادہ ہوں گی اور آلودگی بڑھے گی تو اس کے نتیجے میں درجہ حرارت بھی بڑھے گا‘۔

تاہم فریڈ سنگر، جو اس نظریے کے مخالف ایک گروپ ’سائنس اینڈ اینوائرمنٹل پالیسی پراجیکٹ واشنگٹن‘ سے تعلق رکھتے ہیں، اس تشریح کو نہیں مانتے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ سال 1860 کے بعد گرم ترین سال تھا تو اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ یہ 1860 کے بعد گرم ترین سال تھا۔ اس کے علاوہ یہ کوئی اور بات ثابت نہیں کرتا اور یہ اپنے آپ کسی وجہ کا ثبوت نہیں ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے لیے بہت باریکی میں جا کر مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ حرارت میں اضافہ انسان کی پیدا کردہ گیسوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یقیناً ان کا کچھ اثر ہے لیکن اس میں قدرتی عوامل کا کتنا حصہ ہے اس کے لیے گہرائی میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے‘۔

1860 کے بعد دس گرم ترین سالوں میں سے آٹھ پچھلے دس سال میں تھے۔

66ماحولیاتی کانفرنس
امریکہ کی موسمیاتی کانفرنس کو وارننگ
66سمندر بڑھنے لگے
حدت انگیز گیسوں میں تیزی سے اضافہ
66عالمی حدت اضافہ
حدت میں اضافہ ایک حقیقت، ذمہ دار انسان
اسی بارے میں
عالمی حدت سے حیوانات کو خطرہ
06 October, 2005 | نیٹ سائنس
گھاس سے بجلی پیدا کرنے کی تیاری
07 September, 2005 | نیٹ سائنس
دھواں چھوڑنے کی قیمت
05 March, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد