کاربن ڈائی آکسائڈ کم کرنے پر انعام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خاطرخواہ حد تک کم کرنے کا طریقہ نکالنے والے کے لیے 25 ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے۔ سر رچرڈ برانسن نے فضا کو صاف کرنے کے لیے اس مقابلے کا اعلان لندن میں کیا ہے اور یہ انعام شروع کرنے میں سابق امریکی نائب صدر ایل گورے بھی ان کے شریک ہیں۔ اس مقابلے کی نگرانی ججوں کا ایک پینل کرے گا جس میں جیمس لوولوک اور ناسا کے سائنسداں جیمز ہینسن شامل ہیں۔ اس موقع پر لوولوک نے کہا کہ نوع انسانی کو لازمی طور پر یہ احساس ہونا چاہیے کہ اسے کس طرح کے ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا ہو گا۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’زمین ساٹھ سال تک انتظار نہیں کر سکتی۔ گھڑی کی سوئیاں حرکت میں ہیں اور میں اپنے اور اپنے بچوں کے بچوں کے محفوظ مستقبل کا خواہش مند ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے لیے وہ 25 ملین ڈالر (بارہ اعشاریہ پانچ ملین پاؤنڈ) کے انعام کا اعلان کر رہے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائڈ کم کرنے کا طریقہ ایجاد کرنے والے کو دیا جائے گا۔ اس منصوبے کی نگرانی برطانیہ اور امریکہ کے نامور سائنسداں کریں گے اور دیکھیں گے کہ طریقہ ایسا ہو جس کے ذریعے فضا سے سالانہ ایک ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ کم کی جا سکے۔
امریکہ کے سابق نائب صدر اور صدارت کے انتخاب میں حصہ لینے والے ایل گورے بھی اس انعام میں رچرڈ برانسن کے شریک ہیں۔ وہ اب ماحولیات کے تحفظ کی تحریک کے ایک سرگرم کارکن بن چکے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’یہ چیلنج دراصل نوع انسانی کے اخلاقی تصور کا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ اس حقیقت کا سامنا کیا جائے جس کا ہمیں سامنا ہے‘۔ |
اسی بارے میں مریخ پر مٹی و ریت کے فوارے21 August, 2006 | نیٹ سائنس گھاس سے بجلی پیدا کرنے کی تیاری07 September, 2005 | نیٹ سائنس کاربن ڈائی آکسائڈ مقدار میں اضافہ 31 March, 2005 | نیٹ سائنس زیر آب رنگ برنگی دنیا خطرے میں 02 February, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||