زیر آب رنگ برنگی دنیا خطرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ سمندروں کے نیچے پائے جانے والے مونگے تیس سال میں ختم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ تحقیق کے مطابق سمندر تیزی سے انسانی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی اجزاء جذب کر رہے ہیں جس سے ان میں تیزابیت بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو سن اکیس سو تک سمندروں میں اتنی تیزابیت ہو جائے گی جتنی پچھلے چار سو ملین سال میں نہیں ہوئی۔ یروشلم میں عبرانی زبان کی جامعہ میں ماہرین نے کہا ہے کہ سمندروں میں گیسوں کے جذب ہونے سے مونگوں کی نشو نما مشکل ہو جائے گی۔ مونگے اپنا ڈھانچہ اور دیگر سخت حصے نہیں پیدا کر سکیں گے۔ جامعہ کے ماہرین نے بحیرہ احمر میں تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ تیس سے ستر سال کے اندر جذب ہونے والا مادہ مونگوں کے پھلنے پھولنے کی صلاحیت کو متاثر کرنا شروع کر دے گا۔ اگر یہ تحقیق درست ہے تو پھر یہ مونگوں سے اقتصادی فائدہ حاصل کرنے والے ممالک کے لیے تشویش کی بات ہے۔ مونگے بہت سے جزیروں کو سمندری لہروں سے بچاتے ہیں، دنیا بھر سے سیاح مونگوں کی خوبصورتی سے کھنچے چلے آتے ہیں اور یہ مچلھیوں کی افزائش کے لیے بھی سود مند ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||