نئی نسل کی مچھلیاں دریافت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے بحراوقیانوس میں نئی نوع کی آبی حیات کا خزانہ دریافت کیا ہے جن میں ایک سرخ رنگ کا چمکیلا طعمہ ماہی بھی ہے۔ سائنسدان دو ماہ سے بحر اوقیانوس کے وسط میں پہاڑی چوٹی کے قریب تحقیق کر رہے تھے۔ اس تحقیقی مہم کی سربراہی ناروے کے سائنسدان کر رہے ہیں اور یہ انٹرنیشنل سینسس آف میرین لائف کا حصہ ہے۔ دس سالہ گنتی کا آغاز سن دو ہزار میں ہوا تھا اور اس کا مقصد تمام آبی حیات کی ’ڈومز ڈے بک‘ کے لیے فہرست تیار کر نا ہے۔ اس مہم میں آئیس لینڈ اور آذورز کے درمیان سمندر کے نیچے پہاڑی چوٹی پر تحقیق کرگئی ہے۔ آبی حیات کے سائنسدانوں کی ٹیم نے اس مہم کا آغاز پانچ جون کو کیا تھا۔ بحر اوقیانوس میں یہ پہاڑی چوٹی آئیس لینڈ اور آذورز میں سطح سمندر سے ایک اعشاریہ تین میل بلند ہوتی ہے لیکن درمیان میں پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس مہم میں چار ہزار میل کا سفر کیا اور انتہائی جدید آلات کا استعمال کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی مہم ہے اور اس میں مچھلی کی تین سو اور طعمہ ماہی اور اکٹوپس کی پچاس نئی نسلیں دریافت کی گئی ہیں۔ نئی نسل کی ایک مچھلی جو سائنسدانوں نے پکڑی ہے وہ بنسی باز مچھلی کی طرح کی ہے جو اپنے منہ اور سر پر تاروں کی حرکت سے دوسری چھوٹی مچھلیوں کا شکار کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||