’مرکری میسنجر‘ عطارد کے لیے روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلائی تحقیقاتی سیارچہ ’مرکری میسنجر‘ جو سورج کے قریبی ترین سیارے عطارد کا تفصیلی جائزہ لے گا، اپنے خلائی سفر پر کامیابی سے روانہ ہوگیا ہے۔ اس کا سات سالہ سفر منگل کے روز فلاریڈا میں کیپ کناورل کے خلائی مرکز سے ایک بوئنگ طیارے، ڈیلٹا ٹو پر پرواز کےساتھ شروع ہؤا۔ پچھلے تیس سال میں مریخ کو جانے والا یہ پہلاخلائی راکٹ ہےجو 2011 میں عطارد کے مدار میں پہنچے گا اوراس کی فضا، ہئیت اور ساخت کے بارے میں تحقیقاتی مواد اکٹھا کرنے کے لیے ایک سال تک اس کے گرد چکر لگائے گا۔ پیر کے روز آسمان ابر آلودہونے کی وجہ سے اس کی روانگی ملتوی کرنی پڑی تھی ۔اس کے سات عشارئیہ نو ارب کیلو میٹر لمبے سفر کے دوران مرکری میسنجر سب سے پہلے زمین کے گرد ایک چکر لگائے گا پھردو چکر وینس کے گرد اور پھر نظام شمسی کے اندرونی حلقے میں عطارد کے مدار میں داخل ہوگا۔ اس مہم کے دوران مرکری میسنجر عطارد کی بیرونی سطح کی ساخت،اس کی جیولاجیکل تفصیلات، اس کے جنوبی اور شمالی خطوں، اس کی فضا، اور مقناطیسی ماحول کے علاوہ اس کے مرکزی مادے کے بارے میں تحقیق کرے گا۔ عطارد کی دنیا وینس زمین اور عطارد میں، جنہیں پتھریلے سیارے کہا جاتا ہے، عطارد کے بارے میں ہم سب سے کم معلومات رکھتے ہیں۔ انیس سو تہترمیں امریکی خلائی مرکز ناسا نے’میرینر ٹن‘ نامی خلائی سیارچہ عطارد کی جانب بھیجا تھا جو اس کے قریب سے تین بار کزرا تھا لیکن وہ اس کی سطح کے صرف پینالیس فیصد حصے کی تصاویر لے سکا تھا۔ سائنسدانوں کو یہ توپہلے ہی معلوم ہے کہ زمین سے چھوٹا ہونے کے باوجود عطارد کی سطح کی کثافت بھی اتنی ہی گھنی ہے جتنی زمینی سطح کی لیکن اسکی کیمیائی ساخت میں دو تہائی فولاد ہے۔ اور انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||