| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش کی نئی خلائی ’بصیرت‘
امریکہ کے صدر بش نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ 2020 تک اپنے خلانورد چاند پر دوبارہ بھیجے گا۔ انہوں نے کہا کہ انسان چاند پر رہیں گے اور کام کریں گے تاکہ مریخ جیسے دوسرے سیاروں کے متعلق تحقیق کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ناسا کو اب اگلے پانچ سال کے دوران ایک ارب ڈالر اضافی دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کر سکے۔ ان منصوبوں میں خلائی شٹل کی تبدیلی بھی شامل ہے۔ صدر بش کے اعلان پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مہنگا انتخابی جوا ہے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے تمام امریکیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق صدر بش کا اعلان امریکہ کے خلائی پروگرام میں جان ڈال دے گا جو کولمبیا شٹل کی تباہی کے بعد زرا مانند پڑ گیا تھا۔
صدر بش کی امریکہ کی خلائی تحقیق کے متعلق ’نئی بصیرت‘ میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ 2020 تک اپنے خلانورد چاند پر دوبارہ بھیجے گا۔ چاند پر روبوٹ کے ذریعے تحقیق کے بعد وہاں انسانوں کے لیے سٹیشن بنایا جائے گا جہاں سے مریخ کے لیے مشن روانہ کیے جائیں گے۔ خلائی شٹل کی پرواز بحال کی جائے گی اور اسے 2010 تک ریٹائر کر دیا جائے گا۔ 2008 میں اس کے متبادل کا انتظام کیا جائے گا اور 2014 تک اس میں انسان تحقیق شروع کر دیں گے۔ 2010 تک بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر امریکہ اپنا کام مکمل کر لے گا۔‘ واشنگٹن میں ناسا کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ تیس سال پہلے انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا لیکن اس کے بعد سے انسان زمین سے 386 میل سے زیادہ دور نہیں گیا۔ انہوں نے کہا: ’اب امریکہ کی طرف سے اگلا قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ آج میں خلائی تحقیق اور انسان کی نظامِ شمسی میں پہنچ بڑھانے کے ایک نئے منصوبے کا اعلان کرتا ہوں۔‘ وائٹ ہاؤس کے مطابق اگلے پانچ سالوں میں چاند پر جانے کے منصوبے میں ناسا کو مزید 12 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس میں سے 11 ارب ناسا خود اکٹھا کرے گا اور صدر بش کانگریس سے ایک ارب ڈالر کی منظوری کی درخواست کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||