پانی کے نیچے ہزاروں طرح کی حیات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے سال آبی حیات کی تیرہ ہزار نئی قسمیں دریافت کی ہیں۔ان میں تقریباً ایک سو نئی مچھلیاں شامل ہیں۔ لگ بھگ ستر ممالک کے سائنس دانوں کے تعاون کے ادارے سنسس آف مرین لائف نے ٹونا اور شارک جیسی مچھلیوں کے بارے میں نئی معلومات بھی حاصل کی ہیں۔ ان نئی قسموں میں سے زیادہ تر گہرے پانی میں دریافت کی گئیں اور ان میں سے تقریباً نصف مائکروبز ہیں۔ بی بی سی کے ماحولیاتی نامہ نگار کے مطابق اس دریافت سے ایسا لگتا ہے کہ ابھی اور بھی بہت ساری قسموں کی دریافت ہونے والی ہے۔ آبی حیات کے بارے میں تحقیق کرنے والے ایک محقق ڈاکٹر ران ڈار کہتے ہیں ’ہمیں معلوم ہے کہ آبی حیات کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ پانیوں کی تہوں میں کس طرح کی حیات ہے۔‘ ’ہماری تحقیق اور تجزیہ کے مطابق اگر آپ دو ہزار میٹر گہرے پانی میں مچھلی پکڑ لیں تو اس بات کا امکان پچاس فیصد بڑھ جاتا ہے کہ ہمیں سمندری حیات کی اس قسم کا پتہ پہلے نہیں تھا۔‘ ایک اور تحقیق کار ڈاکٹر کرس جرمن کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ گہرے پانیوں کے نیچے حیات کس طرح کی ہے اور سمندر میں کاربن کو کس طرح روک لیتی ہے کہ یہ کاربن واپس ہماری جانب نہیں آتا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||