انسانی تاریخ میں بارش کا تعاقب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین آثار قدیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ قبل از تاریخ کا انسان دنیا کے سب سے بڑے صحراء میں پانچ سو سال تک بارش کا پیچھا کرتا رہا ہے۔ یہ خانہ بدوش لوگ آج کی دنیا کے ممالک مصر، سوڈان، لیبیا اور چاڈ کے صحراؤں میں بارش کا تعاقب کرتے رہے۔ اسی بارش نے پھر صحرائے صحارا کے حصوں کو سیراب کیا اور انہیں سبزہ دیا۔ ماہرین کے مطابق تقریباً سات ہزار سال قبل جب یہ علاقہ بالکل خشک ہوگیا تو یہاں سے دریائے نیل اور افریقہ کے دیگر علاقوں کی جانب بہت بڑی نقل مکانی ہوئی۔ سائنس میگزین میں شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیق سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ بدلتی آب و ہوا اور انسانی آبادیوں کے درمیان ہمیشہ سےگہرا تعلق رہا ہے۔ آج کا انسان اس حقیقت سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ’ماضی کی طرح موجودہ دور کے دارفور (سوڈان) جیسے تنازعات کی وجہ وہاں کے قدرتی ماحول میں بتدریج خرابی ہے۔‘ یہ بات جرمنی میں یونیورسٹی آف کولون کے ڈاکٹر سٹیفن کروپلین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ ’آج بھی صحارا کے علاقے میں خوراک، پانی اور چراہ گاہوں کی تلاش انسان کے بنیادی مسئلے ہیں۔ قدرتی وسائل کی تلاش کے اس سفر کی تاریخ بہت پرانی ہے کیونکہ یہ عمل صدیوں پہلے شروع ہوا تھا۔‘ واضح رہے کہ مشرقی صحارا کا بیس لاکھ مربع میل سے زائد کا علاقہ انسانوں اور جانوروں کے رہنے کے لیے آج بھی موزوں نہیں ہے۔ اسی لیے یہ علاقہ ہمیں نسل انسانی کے ماضی میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ تحقیق ڈاکٹر کروپلین اور ان کے ساتھ ڈاکٹر روڈالف کوپر کی مشترکہ کوشش ہے۔ تیس سال پر محیط اس تحقیق کے دوران دونوں ماہرین نے سو سے زائد آثار قدیمہ کا مطالعہ کیا اور گزشتہ دس ہزار سال کے دوران انسانوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کے عمل کو سمجھنے کے کوشش کی ہے۔ اپنی قسم کی اس سب سے بڑی تحقیق کے دوران ماہرین نے دنیا کے سب سے بڑے صحرا میں انسانی تنوع کی تفصیلی تصویر کشی کی ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ آج یہ علاقہ مکمل خشک صحرا ہے لیکن ماضی میں یہ نیم مرطوب علاقہ تھا جہاں بارش ہوتی تھی۔ تیرہ، چودہ ہزار سال قبل یہ علاقہ نہایت خشک تھا لیکن تقریباً دس ہزار پانچ سو سال قبل یہاں کی آب و ہوا میں بہت بڑی تبدیلی آئی جس سے یہاں بارشیں ہونا شروع ہو گئیں اور مون سون جیسے موسمی حالات پیدا ہو گئے۔
اس تبدیلی کے بعد صحرا کے جنوب میں بسنے والے خانہ بدوش اس علاقے میں بننے والے نئے دریاؤں اور جھیلوں کے قریب آباد ہونا شروع ہو گئے۔ ان لوگوں کا گزر بسر شکار اور جنگلی پودوں پر ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ لوگ یہاں کے مکین ہو گئے اور انسان نے پہلی دفعہ جانور پالنا اور برتن بنانا شروع کیے۔ سحرائے صحارا میں مرطوب آب و ہوا کا یہ دور تقریباً چھ ہزار سال قبل تک جاری رہا جس کے بعد یہ علاقہ اچانک پھر خشک ہوگیا۔ اس مرحلے پر یہاں سے لوگوں نے بتدریج درائے نیل اور بر اعظم افریقہ کے دیگر علاقوں کی جانب ہجرت شروع کر دی۔ ’عین اس وقت تک وادی نیل میں انسانی بستیاں نہ ہونے کے برابر تھیں‘ ڈاکٹر کروپین نے کہا۔ ’ اس سے پہلے لوگوں نے صحارا کے ان علاقوں میں رہنے کو ترجیح دی جہاں گھاس اگتی تھی لیکن جب یہ ممکن نہ رہا تو انہوں نے وادی نیل کا رخ کیا۔نہ صرف یہ بلکہ یہ خانہ بدوش اپنے ساتھ جانور پالنے کا ہنر لائے، وہ ہنر جو انہوں نے اس دوران سیکھ لیا تھا جب صحارا کی آب و ہوا مرطوب تھی۔‘ ڈاکٹر کروپین کے مطابق یہ لوگ اپنے ساتھ مخصوص طرز زندگی بھی لائے جس میں خشک موسم کے لیے خوراک کو محفوظ رکھنے جیسا علم شامل تھا جو ان خانہ بدوشوں سے مرکزی اور جنوبی افریقہ تک پہنچا۔ دوسرے ماہر ڈاکٹر کوپر کے مطابق آج کی زمین پر مختلف لوگ اور زبانیں جس طرح سے تقسیم ہیں، اس کی بنیاد صحرائے صحارا میں ہونے والی موسمی تبدیلیاں ہیں۔ پانچ ہزار سال قبل انسانوں نے شکار کے ساتھ ساتھ جانور پالنے کا فن سیکھا اور انسانی تاریخ کے اس اہم موڑ کا آغاز افریقہ کے صحراؤں میں ہوا۔‘ |
اسی بارے میں عالمی حدت سے حیوانات کو خطرہ06 October, 2005 | نیٹ سائنس ’ماحول کو چین اور انڈیا سے خطرہ ہے‘ 12 January, 2006 | نیٹ سائنس ماحولیاتی کانفرنس حتمی مرحلے میں07 December, 2005 | نیٹ سائنس ماحول دوست میں سرمایہ کاری10 May, 2005 | نیٹ سائنس ماحولیاتی مسائل کا خدشہ: چینی اہلکار24 September, 2004 | نیٹ سائنس ہوائی سفر سے ماحولیاتی تباہی04 July, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||