ہانگ کانگ: موسمی تبدیلی سے خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ پائے کے تھینک ٹینک نے ہانگ کانگ اور دریائے پرل کے ڈیلٹا پر موسمی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں اپنی پہلی تجزیاتی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ سیوک ایکسچینج سٹڈی نامی اس تھینک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موسمی تبدیلی کے ساتھ پانی کی سطح میں معمولی اضافہ سے ڈیلٹا کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ جنوبی چین میں دریائے پرل کا ڈیلٹا ایک اہم پیداواری اور تجارتی علاقہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے سیلاب کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ یہ رپورٹ ایک لمبے عرصے تک ہونے والی پانی کی سطح میں تبدیلی کے بارے میں ہے جس میں اس بات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے کہ اگر ایک یا دو دہائیوں کے دوران طوفانوں کے ساتھ پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہو جائے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں آنے والے سیلاب سے ہانگ کانگ اور ڈیلٹا میں تجارتی اور اہم صنعتی ادارے بند ہو جائیں گے۔ بین الااقوامی سطح پر اگر اس علاقے کی اہمیت کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہو گی۔ ہانگ کانگ کا اہم بنیادی ڈھانچہ جس میں بندرگاہیں، بجلی اور نظامِ نکاسی شامل ہیں کام کرنا بند کر دیں گے۔ اس رپورٹ کو الیگزینڈرہ ٹریسی نے مرتب کیا ہے اور ان کا کہنا ہے پالیساں مرتب کرنے والوں کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ساحلوں پر کیے گئے حفاظتی انتظامات کو بہتر کیسے بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق آہندہ بیس برسوں میں سمندر کی سطح میں تیس سینٹی میٹر کا اضافہ ہونے کا امکان ہے اور یہ اضافہ طوفانوں اور بارشوں کی وجہ سے سیلابوں کا باعث بنے گا۔ | اسی بارے میں دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے27 January, 2005 | نیٹ سائنس تبدیلئ آب و ہوا، سربراہ اجلاس28 November, 2005 | نیٹ سائنس گلوبل وارمنگ سے زیادہ تباہ کاریاں15 August, 2006 | نیٹ سائنس نیروبی میں ماحولیات پر اجلاس06 November, 2006 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||