2007 میں حدت اور بڑھےگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس سال درجہ حرارت میں اور اضافہ ہوگا اورامکان ہے کہ یہ سال پہلے سے زیادہ گرم رہےگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں بعض خاص تبدیلیوں کے سبب اس سال کرہ ارض پر درجہ حرارت بڑھےگا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس بات کے امکانات ہیں کہ اس برس سنہ انیس سو اٹھانوے سے بھی زیادہ گرمی پڑ ے گی۔ اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ دوہزار چھ میں اوسطا برطانیہ میں پہلے سے کہیں زیادہ گرمی تھی اور سنہ انیس سو چودہ، جب سے درجہ حرارت کے ریکارڈ کا سلسلہ شروع ہواہے کبھی اتنی گرمی نہیں ہوئی تھی۔ اس برس اوسطا درجہ حرارات 0.54C ڈگری رہےگا جو موجودہ 0.52C سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل 0.54C درجہ حرارت سنہ انیس اٹھانوے میں ہوا تھا۔ موسم کے متعلق یہ تفصیلات یونیورسٹی ایسٹ انجیلیا کی مدد سے برطانوی محکمہ موسمیات کے دفتر ہیڈلی سینٹر نے جمع کی ہیں۔ اس کے سربراہ کرس فولانڈ کا کہنا ہے کہ یہ پیشین گوئی دو بنیادوں پر کی گئی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ روز برو ز کی ہنگامہ آرائیوں سے گرین ہاؤس گیسیز نکلتی ہیں۔’ گرین ہاؤس گیسیز سے درجہ حرارت بڑھتا ہے جبکہ ایروسولز سے سردی بڑھتی ہے تو جس مقدار میں گرین ہاؤس گیسیز میں اضافہ ہوگا اسی مقدار سے گرمی بھی بڑھےگی۔‘
مسٹر کرس کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے ساحل میں گرم پانی جمع ہونے کا پورا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اسے EI Nino کے نام سے جانا جاتا ہے جو کئی بار سمندری تبدیلیوں کا سبب ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں اس کے آثار ابھی سے نمایاں ہیں اور کچھ ماہ بعد اس کے اثرات بھی دیکھے بھی جا سکیں گے۔ کرس فولانڈ کے مطابق انہیں بنیادوں پر اس سے قبل کئی بار پیشین گوئی کی گئی ہے اور وہ صحیح ثابت ہوئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ساٹھ فیصد اس بات کے امکانات ہیں کہ اس برس درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم ہوگا۔ ہیڈلی سینٹر موسم کے متعلق گزشتہ سات برسوں سے پیشین گوئی کرتا آرہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عام طور اس کی پیشین گوئیاں صحیح ثابت ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں پودوں،جانوروں کی نسلیں مٹنے کا خطرہ08 January, 2004 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس موسمیاتی تغیر، انسان بھی ذمہ دار04 May, 2006 | نیٹ سائنس ہانگ کانگ: موسمی تبدیلی سے خطرہ23 November, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||