کروڑوں غریب لوگ متاثر ہوں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کے سائنسدانوں اور حکومتی اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے اربوں افراد کی زندگیاں متاثر ہوں گی۔ مختلف حکومتوں پر مشتمل ماحولیاتی تبدیلیوں کی بین الحکومتی تنظیم ’ انٹر گورئمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘ یعنی آئی پی سی سی کی جانب سے یہ رپورٹ ابھی باقاعدہ طور پر شائع نہیں ہوئی، تاہم پینل کے سربراہ راجندرا پاچوری نے کہا ہے کہ غریب افراد آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ برسلز میں سینکڑوں ماہرین ماحولیات نے کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی کے انسانی معاشروں پر واضح اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے ایک مصنف سلیم الحق کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں آب و ہوا میں تبدیلی کے زیادہ اثرات محسوس کیے جائیں گے۔ رپورٹ کی تیاری میں دنیا بھر میں آب و ہوا میں تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ممکن ہے ان تبدیلیوں کا آغاز ہو چکا ہو۔ اس کے علاوہ تحقیق میں یہ بات بھی ظاہر ہوئی ہے موسمی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ اثرات غریب اور ترقی پذیر ممالک میں رہنے والوں پر ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق آب و ہوا میں تبدیلی کے سب سے زیادہ منفی اثرات ان کروڑ ہا لوگوں پر ہوں گے جو افریقہ اور ایشیاء کے ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں۔
رپورٹ کی اشاعت سے پہلے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پینل میں شامل ایک اور سائسدان مارٹن پیری نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سائنسدانوں نے آب و ہوا میں تبدیلی کے سائنسی شواہد دنیا کے تمام براعظموں سے جمع کیے ہیں۔ پینل کے چیئرمین راجندر پچوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے غریب خطوں میں بسنے والے افراد جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے کسی طور بھی ذمہ دار نہیں ہیں ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا ’ دنیا کے غریب ترین لوگ، جس میں امیر ممالک میں رہنے والے غریب بھی شامل ہیں، سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہوں گے۔ میرے خیال میں یہ بات نہایت توجہ طلب ہے کیونکہ غریب لوگوں کے پاس ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں۔ لہٰذا ایک لحاظ سے یہ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس سلسے میں اقدامات کیے جائیں۔‘ رپورٹ کے مصنف سلیم الحق کا کہنا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے پیدا ہونے والے اثرات کافی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی ہے۔ اگر درجہ حرارت میں ایک درجے کا اضافہ ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے اثرات اتنے زیادہ نہیں ہوں گے لیکن اگر اس میں دو ڈگری کا اضافہ ہوتا ہے تو اس کے خاصے اثرات ہوں گےاور اگر تین درجے کا فرق پڑتا ہے تو تمام دنیا کو خطرہ ہوگا۔‘
آئی پی سی سی اپنی اس رپورٹ کا ایک خلاصہ جمعہ کے روز جارری کر رہا ہے لیکن اس میں استعمال کیے جانے والے الفاظ پرجمعرات کی رات تک گفت و شنید جاری رہی۔ حکام کے مطابق رپورٹ کے خلاصے کے لیے الفاظ کے انتخاب پر مختلف ملکوں کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا رہا ہے۔ یورپی ممالک دنیا میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں پر بڑے واشگاف الفاظ میں پیغام دینا چاہتے ہیں جبکہ امریکہ اس سلسلے میں زیادہ سخت الفاظ استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ بائیس صفحات پر مشتمل اس خلاصے کے چند پیراگراف پر چین اور روس نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔ امریکہ، چین اور بھارت کے حکام ماہرین موسمیات اور سائنسدانوں سےپوچھ رہے ہیں کہ وہ کیسے اتنے یقین سے مستقبل کے بارے میں یہ باتیں کر سکتے ہیں۔ یہ رپورٹ جون میں ہونے والی جی ایٹ ملکوں کی سربراہ ملاقات میں بھی پیش کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کم کرنے پر انعام 09 February, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس شمالی کرہ میں گرم ترین موسمِ سرما16 March, 2007 | نیٹ سائنس شمالی کرہ میں گرم ترین موسمِ سرما16 March, 2007 | آس پاس موسمی خطرات، احتیاط کی ضرورت17 March, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||