چین میں مہلک کیلوں کی افواہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں ایس ایم ایس کے پیغامات ذریعے پھیلنے والی ایک افواہ سے کیلوں کے لیے مشہور چینی جزیرے ہائینان کے کسانوں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ ا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس افواہ میں دعویٰ کیا گیا کہ جزیرے کی کیلے کی پیداوار پر ’سارز‘ وائرس حملہ کر چکا ہے۔ واضح رہے کہ سارز وائرس سے ہونے والی سانس کی بیماری سے خطے میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہائینان کے کیلے کے درختوں کے مالکان کو اس افواہ سے شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور ان کا کہنا ہے انہیں روزانہ چھبیس لاکھ ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے۔ چین کی وزارت زراعت نے کیلوں میں سارز وائرس کی افواہ کی سختی سے تردید کی ہے جبکہ پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ اس افواہ کا آغاز کس نے کیا تھا۔ ملک کی وزارت صحت کے ایک افسر نے کہا: ’ یہ سراسر افواہ ہے۔ دنیا میں ایک بھی ایسا کیس دیکھنے میں نہیں آیا ہے کہ جہاں کوئی انسان درختوں کو مثاتر کرنے والے وائرس سے بیمار ہوا ہو اور نہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت ہے۔‘ ہائینان کے کیلوں کے کسانوں اور تاجروں کو اس سے پہلے ایک دوسری افواہ کا بھی سامنا رہا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس سال کے آغاز میں آسمانی بجلی گرنے کے بعد سے ہائینان کے کیلوں سے سرطان ہونے کا خطرہ ہے۔ کیلے سے بیماری کی افواہ ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب بین الاقوامی منڈی چینی برآمدات پہلے سے ہی تنقید کا شکار جن میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ چین میں بنائے جانے والے پالتوں جانوروں کے کھانوں اور ٹوتھ پییسٹ میں زہر شامل ہوتا ہے۔ دریں اثناء سرکاری اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کے نگران ادارے پر تنقید کی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ چینی صارفین کی حفاظت کے لیے مذید اقدامات کرے۔ |
اسی بارے میں بلاگرز کی شناخت کا منصوبہ ترک24 May, 2007 | نیٹ سائنس چین: انٹرنیٹ پر کنٹرول کی کوششیں26 April, 2007 | نیٹ سائنس دریا زہریلا ہو گیا، شہر کا پانی بند23 November, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||